38

خواتین ریزرویشن بل سے نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک نئے مستقبل کا آغاز: مودی

نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کے لئے ریزرویشن کے التزام والے بل کو پارلیمنٹ سے منظوری کو ایک ‘بڑی حصولیابی’ اور ‘نئے پارلیمنٹ میں ملک کے نئے مستقبل کی شروعات’ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقننہ میں خواتین کے ریزرویشن کا معاملہ تین دہائیوں سے زیر التوا تھا جسے اب ریکارڈ حمایت کے ساتھ منظور کر لیا گیا ہے۔ مسٹرمودی حکومت کے روزگار میلہ پروگرام سے آن لائن خطاب کررہے تھے۔ اس پروگرام میں مرکزی حکومت کے مختلف محکموں کے لیے منتخب کیے گئے تقریباً 51000 امیدواروں کو تقرری لیٹرفراہم کیے۔ مسٹرمودی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ سرکاری ملازمین کی فرض شناسی سے ملک کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ خواتین ریزرویشن بل کے بارے میں انہوں نے کہا، ’’آج ہمارا ملک تاریخی حصولیابیوں اور فیصلوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ناری شکتی وندن ایکٹ کی صورت میں ملک کی آدھی آبادی کو بڑی طاقت ملی ہے۔ 30 برسوں سے خواتین ریزرویشن کا جومعاملہ زیر التوا تھا، وہ اب دونوں ایوانوں سے ریکارڈ ووٹوں سے منظور ہو گیا ہے۔
اس ماہ منعقدہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین کے ریزرویشن کے لیے آئین میں 128ویں ترمیم کے لئے رکھا گیا یہ بل نئے پارلیمنٹ ہاؤس کا پہلا قانون ساز عمل تھا۔ اسے دونوں ایوانوں میں تقریباً متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
مسٹرمودی نے کہا، ”آپ تصور کریں کہ یہ کتنی بڑی کامیابی ہے۔ یہ مطالبہ اس وقت سے ہو رہا تھا جب آپ میں سے اکثر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ یہ فیصلہ ملک کی نئی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں ہوا ہے۔ ایک طرح سے نئے پارلیمنٹ میں ملک کے نئے مستقبل کا آغاز ہوا ہے۔
انہوں نےنئے تعینات ہونے والے گرین اہلکاروں کو گنیشوتسو کے موقع پر نیک خواہشات دیتے ہوئےکہا، “آپ کی خدمت کا عزم، قوم کے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔” آج اس روزگار میلے میں ہماری بیٹیوں کو بھی بڑی تعداد میں اپائنٹمنٹ لیٹر ملے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان میں بیٹیاں خلا سے لے کر فوج تک تمام شعبوں میں کام کے نئے ریکارڈ بنا رہی ہیں۔ حکومت کی پالیسی بھی یہی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے نئے دروازے کھولے جائیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج 21ویں صدی کے ہندوستان کی امنگیں بہت زیادہ ہیں، ہمارے سماج کی، حکومت سے توقعات بہت زیادہ ہیں… ملک نے 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان بننے کا عزم کیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا، “ہم اگلے چند سالوں میں تیسری سب سے بڑی معیشت بننے جا رہے ہیں۔ آج جب ملک میں اتنا کچھ ہو رہا ہے تو اس میں ہر سرکاری ملازم کا کردار بہت زیادہ بڑھنے والا ہے۔ آپ کو ہمیشہ “عوامی مفاد سب سے اوپر” کے جذبے سے کام کرنا ہوگا۔ آپ تونسل کا حصہ ہیں جو ٹیکنالوجی کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے حکومتی کاموں میں نئی ​​بہتری کیسے لا سکتے ہیں؟ کارکردگی کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے؟
گزشتہ 9 برسوں میں سرکاری کام کاج میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے انضمام میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے بدعنوانی کو کم کیا ہے، ساکھ میں اضافہ کیا ہے، پیچیدگیوں میں کمی ہوئی ہے اور سہولت میں اضافہ۔ انہوں نے کہا کہ آدھار کارڈ، ڈیجیٹل لاکر اور ای-کے وائی سی نے کاغذات کے ملاپ کی پریشانی کو ختم کر دیا ہے۔ گیس سلنڈر کی بکنگ سے لے کر بجلی کا بل ادا کرنے تک سب کچھ اب ایپ پر کیا جا رہا ہے۔ ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے سرکاری اسکیموں کا پیسہ براہ راست لوگوں کے کھاتوں میں پہنچ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں