34

حکومت کو منی پور کی صورتحال پر کل جماعتی میٹنگ بلانی چاہئے: کانگریس

نئی دہلی، کانگریس نے بدھ کو کہا کہ منی پور میں معصوم نوجوانوں کے اغوا اور قتل کی جو تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں وہ خوفناک ہیں اور یہ واضح ہے کہ پچھلے پانچ مہینوں میں وہاں کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں اور حکومت مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔
کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جن نوجوانوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں وہ خوفناک ہیں اور جنہوں نے یہ جرم کیا ہے ان کے خلاف جلد ازجلد سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
مسٹر گوگوئی نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم مودی تمام جماعتوں کی میٹنگ بلائیں اور ہم سب مل کر منی پور کے مسئلے کا کوئی حل تلاش کریں۔ اگرصحافی سچ دکھانا چاہتے ہیں تو ان کے خلاف ایف آئی آرہوجاتی ہے۔ انٹرنیٹ پر سچ سامنے آنے لگا تو پانچ دن کے لیے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا۔ یہ کب تک چلتا رہے گا؟ وزیر اعظم مودی کو مزید کتنے ثبوت چاہیے؟
انہوں نے کہا، ’’ملک کے وزیر اعظم نے منی پور کو اپنی پیٹھ دکھا دی ہے۔ منی پور میں تقریباً پانچ مہینے پہلے تشدد شروع ہوا تھا، لیکن مسٹر مودی آج تک وہاں نہیں گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک نے مسٹر نریندر مودی جی کو وزیر اعظم صرف تشہیر اور افتتاح کے لیے بنایا ہے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ گزشتہ پانچ مہینوں میں خود وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ سے کتنی بار بات کی ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا، ”پورا ملک آج منی پور کے درد کو محسوس کر رہا ہے۔ “منی پور میں ریاستی حکومت جس طرح لاٹھیوں اور آنسو گیس کے ذریعے طلباء کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے کانگریس اس کی مذمت کرتی ہے۔”
انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم منی پور کے وزیر اعلیٰ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا حکم کب دیں گے؟ منی پور میں بی جے پی حکومت خواتین اور بچوں کو بچانے میں ناکام رہی ہے۔ وہاں نہ تو فوجی محفوظ ہیں اور نہ ہی پولیس اہلکار، لیکن وزیر اعظم مودی اپنی ہی شبیہہ کے فریب میں اس قدر پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ منی پور کی اصل صورتحال کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ “غم کی اس گھڑی میں ہم منی پور کے طلباء، اساتذہ برادری اور منی پور کے ہر شہری کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں