31

لاعلمی کا سیاسی فائدہ اٹھانا شرمناک ہے: دھنکھڑ

نئی دہلی، نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ نے ہفتہ کو ناری شکتی وندن ایکٹ پر تنقید کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کو انسانیت کے لئے مہلک قرار دیا اور کہا کہ ملک کا مستقبل نوجوانوں کے تعاون اوران کی بیداری پر منحصر ہوگا۔

مسٹردھنکھر آج یہاں سنکلپ فاؤنڈیشن اور سابق پبلک سروس آفیسرز ایسوسی ایشن سے خطاب کر رہے تھے۔ ہندوستانی اقدار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا، “معاشرے میں تبدیلی تب آئے گی جب ہم اپنی ثقافتی اقدار کا احترام کریں گے۔ ہندوستانیت اور ہندوستان ہمارے لئے سب سے اہم ہے اور ہر شخص کو ہندوستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئے۔”

انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسا عظیم ورثہ دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ ہندوستان کی ثقافت پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے، ہندوستان کی ثقافت میں وہ اخلاقیات اور انسانی اقدار موجود ہیں جو پوری دنیا کے کسی ملک کی ثقافت میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پوری دنیا کووڈ وبائی مرض سے نبرد آزما تھی، ہندوستان نے ایک سو سے زیادہ ممالک کو ویکسین بھیج کر ان کی مدد کی۔ یہ ہندوستانی ثقافت کے اخلاق اور ثقافت کی شناخت ہے۔ “واسودھیو کٹمبکم” کا صحیح معنی یہی ہے۔

مسٹر دھنکھر نے دوسرے ممالک میں جاکر ہندوستان پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب بہت زیادہ ترقی ہوتی ہے تو کچھ طاقتیں ملک کی ترقی کو تنقید کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہیں اور کسی بھی حد تک جاکر تنقید کرتی ہیں اورملک کو بدنام کرنے کے برے اعمال کرتی ہیں۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ کسی بھی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے انسانی وسائل ہوتے ہیں۔ ملک کا ثقافتی ورثہ بھی ایک بڑا اثاثہ ہے اور ثقافتی ورثہ ایک بے نظیر قوت کے طور پر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

ملک کے نوجوانوں کو آگاہ کرتے ہوئے، مسٹردھنکھر نے کہا، “ملک کے نوجوان ملک کی ترقی کے سربراہ ہیں اور نوجوان ہندوستان کو ترقی یافتہ بنانے میں اہم رول ادا کریں گے۔ نوجوان ہندوستان کی آبادی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ہمارے ملک کا مستقبل ملک کے نوجوانوں کے تعاون اور بیداری پر منحصر ہے۔ ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے والے جنگجو نوجوان ہی بنیں گے۔

ممبران پارلیمنٹ کے طرز عمل اور وقار پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ممبران پارلیمنٹ بات چیت کریں گے، بحث کریں گے، گہرائی سے غوروفکر کریں گے اور اہم قوانین بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے لیکن وہ شور، ہنگامہ اور الزامات جواب الزامات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس دن ہمارے ملک کے نوجوان یہ فیصلہ کر لیں گے کہ منتخب ممبران پارلیمنٹ آئین کی توقعات کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیں گے، اس دن ہمارے ممبران پارلیمنٹ کو آئین کے مطابق برتاؤ کرنا ہو گا۔

ہندوستان کی نئی تعلیمی پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی تبدیلی کی ایک بنیادی وجہ بنے گی۔ اس تعلیمی پالیسی کے تحت نوجوان بیک وقت متعدد کورسز پڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے سب سے اہم اور موثر ذریعہ ہے اگر کوئی تو وہ تعلیم ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعے سماج میں ایک اہم اور انقلابی تبدیلی آئے گی جوملک کے تعلیمی شعبے کو ایک نئی سمت دے گا۔

اس موقع پر نائب صدر جمہوریہ نے سینئر سماجی کارکن مسٹر مادھو ونائک کلکرنی ’’مدھو بھائی‘‘ کو ’’رشی سمان‘‘ سے نوازا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں