472

‘ پی جی میں لڑکیاں جسم کی بناوٹ سے کنوار پن جانچتی تھیں،پی جی میں زندگی جیسا کچھ نہیں ہوتا’

مدھیہ پردیش، یہ کہانی 26 سال کی نیہا شرما کی ہے ۔وہ 2011 میں پڑھائی کیلئے ستنا(مدھیہ پردیش) سے دہلی آئیں جہاں ملے تجربات نے انہیں زندگی کے نئے ایام دئے۔آج وہ جبل پور کے مہیلا ودھیالے میں انگلش پروفیسر ہیں)۔
مدھیہ پردیش کے ستنا سے پہلی مرتبہ دہلی آکر کچھ دن رشتہ دار کے یہاں رہی ۔پھر اپنے پہلے پی جی سول لائنس شفٹ ہوئی۔پہلی مرتبہ کالج جانے پر اندازہ ہوا میں بہت چھوٹی ہوں ۔فکر ہوتی ،دہلی جیسے بڑے شہر میں پڑھائی کیسے ہوری کروںگی،دہلی آنے پر محسوس ہوا،اپنے شہر میں لگا کنویں میں تیر رہی تھی اور اب کسی نے سمندر میں پھینک دیا تھا۔مجھے تو تیرنا بھی نہیں آتا تھا ۔۔خیر۔۔۔۔۔۔۔دہلی میں بسنا،تیرنا سیکھنے سے لیکر سمدر سے باہر صحیح سلامت آنے کی جدو جہد تھی۔

مڈل کلاس کی لڑکی کے سخت اصول

میرے یعنی مڈل کلاس فیملی سے آئی لڑکی کے نظریے ،اصول کافی سخت تھے۔احساس تھا کہ ماں باپ نے مجھے کچھ بننے بھیجا ہے۔

پاپا پی جی میں سیٹل کرنے کے بعد واپس جانے لگے تو اس لمحے میں دنیا چھوٹ گئی۔من میں دھکا سا ہوا۔لگ رہا تھا اب میرا کیا ہوگا۔معلوم نہیں اگلے ہی لمحے مجھ میں اتنی سمجھ اور بولڈنیس کہاں سے آئی۔میں فورا نارمل ہو گئی ،مضبوط لڑکی بن گئی۔

میرے کمرے میں چار لڑکیاں تھیں۔جن کے لئے چار بیڈ اور چار ہی الماریاں تھی۔پہلی رات ان کے بارے میں جاننے اور اپنے بارے میں بتانے میں گزری ۔وہ اپنے کالج کی باتیں بتا رہی تھیں۔میں انہیں سن کر ہی تجربہ بٹور رہی تھی۔

پی جی میں پہلے سے رہ رہی لڑکی دوست بن گئی۔وہ کچھ دن پہلے آئی تھی پر میں اس کے لئے زیادہ نئی تھی۔ہر چھوٹی بات میں اس کی کوشش رہتی کہ جو اسے نہیں ملا وہ مجھے ضرور دے۔ہم ایسے گھل مل گئے کہ لگا ہی نہیں پہلی مرتبہ ملے ہیں۔ایسا اس لئے بھی ہوا کیونکہ ہمیں معلوم تھا یہاں پر ہم ہی ایک دوسرے کی فیملی ہیں۔مجھے پی جی سے باہرجانے سے لیکر شام کو واپس آنے تک کی ہر جگہ ،سچیوئیشن کے بارے میں سینئرس سے ہی پتہ چلا تھا۔میری جدو جہد سے صرف اچھا کھانا ارینج کرنے کے لئے کرنا پرا۔پی جی کے ٹفن کا کھانا بالکل بھی کھانے لائق نہیں تھا۔ہر بات پر ہر وقت گھر کی یاد آتی تھی۔

پی جی کی پہلی صبح میں نے بستر پر آنکھیں کھولیں ۔نیا کمرہ تھا ۔ماں ۔پاپا نہیں نظر آئے،جن سے میں گڈ مارننگ بولتی ۔جلدی سے تیار ہوکر کالج کیلئے نکلنا ۔ناشتہ نہیں کیا کیونکہ خود مینیج کرنا تھا ۔اس پہلی صبح میں نے دہلی کی بھاگ دوڑ محسوس کی۔۔آہستہ ۔ آہستہ گھرکی اہمیت کا پتہ چلا۔صبح میں ماں ۔پاپا کا فون آتا ،بیٹا اٹھ گئی۔کالج پہنچ گئی ۔پھر دن میں آتا کھانا کھایا،کالج سے گھر آگئی۔۔۔ایسے ہی دن تمام ہوتا۔۔

میٹرو کا پہلا سفر۔میرے ساتھ کچھ انہونی ہوئی تو کیا میں چلا پاؤں گی؟

پاپا مجھے میٹرو روت بتا کر گئے تھے۔جو سمجھ نہیں آئے تھے۔بلو لائن ،ریڈ لائن؟ سب پہیلی تھی۔بس اتنا معلوم ہوتا تھا کس اسٹیشن پر ایگزٹ کرنا ہے۔خاص کر راجیو چوک کا گھنچکر سمجھ نہٰن آتا تھا۔پہچان تھی جس طرف زیادہ بھیڑہے،اس میٹرو میں جانا ہے۔تب لیڈیز کمپارٹمینٹ نہیں تھا۔جنرل کمپارٹمینٹ میں آفس وقت پر میٹرو بھیڑ سے بھری رہتی تھی۔

مجھے چاروں جانب صرف آدمی ،لڑکے ہی نطر آتے تھے جن میں ہر طرف سے بچنے کی کوشش میں رہتی ۔ذہن مٰں ہر لمحہ ” دہلی ،شہر،کرائم ‘جیسا کچھ چلتاتھا۔ہر پل لگتا کوئی جان بوجھ کر تو نہیں چھو رہا۔مین اکثر سوچتی ،اگر میرے ساتھ کوئی انہونی ہو گئی تو کیا میں چلا پاؤں گی؟میں اس وقت اتنی بولڈ نہیں تھی کی چلاتی یا کچھ کہہ پاتی۔

کالج کا پہلا دن ۔ساری لڑکیاں نان ویج جوجوکس کریک کر رہی تھیں

کالج میں پہلے دن کوئی دوست نہیں بنا۔میں تب بہت موٹی بھی تھی ۔خود کو مینٹین کرنا نہیں سیکھا تھا ۔بالوں میں تیل لگاکر کالج جاتی تھی۔میں خاموش چاروں طرف دیکھ رہی تھی ساری لڑکیاں بے مطلب کی باتوں پر ہنس رہی تھیں۔نان ویج جوکس کریک کر رہی تھیں،جو میری سمجھ سے باہر تھے۔شروعاتی تین چار دن تک میں اکیلی تھی۔پھر ایک میری طرح خاموش رہنی والی کلاس ساتھی نے میرے ساتھ بیٹھنا شروع کر دیا۔ہم ایک اچھے دوست بن گئے۔پھر میں نے خود کو مینٹین کرنا سیکھا۔میں خود کو خوش نصیب مانتی ہوں کہ مجھے ہمیشہ ہر جگہ ایسا دوست ملا جس نے میرا ہاتھ تھاما۔اپنے تجربوں سے سیکھا ہوا مجھے بتایا اور میں سیکھتی گئی۔

لڑکیاں جسم کی بناوٹ سے کنوار پن (ورجنٹی ) جانچتی تھیں

ایک وقت کی بعد پی جی میں زندگی جیسا کچھ نہیں ہوتا۔باہر نئی نئی چیزیں سیکھتے ہیں ۔گھر کی یاد نہ آئے اس لئے ان میں مصروف رہنے لگتے ہیں۔دنیا پی جی سے باہر ہوتی ہے۔دن بھر گھومنے ۔پھرنے پڑھنے ،سیکھنے ،کھانے ،پینے کے بعد پی جی صرف وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سمجھ نہیں ہوتی کہ ہم یہاں کچھ بننے آئے ہیں ۔ماں ۔پاپا نے اپنی زندگی کی کمائی ہم پر لگائی ہے تب ہم صرف نئی چیزوں میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔
پی جی میں لڑکیوں کی آپسی ڈچنگ بھی دیکھی۔ایک دوسرے سے نہیں بنتی تو اس کے لک آؤٹ ،جیسچر کو گھٹیا جوکس مارتی ہیں۔جسم کی بناوٹ سے اس کی ورجنٹی ( کنوارپن) جانچتی ہیں۔کردار پر سوالیہ نشانے لگاتیں ہیں۔ایک روم پارٹنر سے میرا ایسا جھگڑا ہوا تھا کہ ہم ایک ہی کمرے میں الگ الگ طرف چہرہ کر کے سوتے تھے ۔کھانا بھی ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر کے کھاتے پھر میں دوسرا پی جی شفٹ کر لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں