3,243

عورت میں جنسی خواہش کس عمر تک رہتی ہے؟

ہمارے معاشرے میں60سال سے زیادہ عمر کے افراد کیلئے سیکس ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد میں چند جسمانی تبدیلیوں کو چھوڑ کر باقی سارے جذبے اور جوش جوانی والے ہوتے ہیں۔ جوانی میں انسان 2سے 3سیکنڈ میں تیار ہو جاتا ہے ۔ جبکہ 50سال کی عمر میں تناؤ کیلئے دوگنا اور 70سال کی عمر میں تناؤ کیلئے۔جاری ہے۔

وقت تین گنا درکار ہے۔ بعض افراد کو تناؤ کے لیے عورت کے نرم ہاتھوں کالمس اورسہلانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ عمر مرد کیلئے زیادہ زرخیز ہوتی ہے کہ گو اس میں تناؤ اتنا سخت نہیں ہوتا لیکن اس قدر ضرور تہوتا ہے کہ دخول ہو سکے۔ اس عمر میں مردوں کو اپنے انزال پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔ اور بعض دفعہ انزال بالکل نہیں ہوتا۔ اسی طرح عورتوں میں اندام نہانی دیر سے گیلی ہوتی ہے۔ جو جوانی میں جلد ہو جایا کرتیہ تھی۔ ایسے افراد کیلئے سیکس اتنی اہمیت رکھتا ہے جتنی جوانوں کیلئے لہذا ایسے افراد کی اس عمر میں جنسی فعل سیکسی قسم کا بالکل نقصان نہیں ہو تا۔٭بوڑھے افراد کی سیکس اہم ضرورت:ہمارے معاشرے میں بوڑھے افراد کے بستر علیحدہ کر دیے جاتے ہیں۔ ماں ایک بیٹے تو باپ دوسرے بیٹے کے پاس، یوں دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ وہ تنہائی اور بوریت کا شکار ہو کر جلد موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں ۔ بوڑھے افراد بھی سیکس کے جذبات رکھتے ہیں ان کو بھی جوانوں خی طرح سیکس کی ضرورت ہو تی ہے ۔ بوڑھے افراد جو جنسی طور پر فعال رہتے ہیں۔ ان پر پراسٹیٹ کا کینسر، جوڑون کا در د اور ہارٹ اٹیک کے مسائل کم ہو جاتے ہیں۔۔جاری ہے۔

مردانہ نس بندی اور جنسی کمزوری:آپریشن کی مدد سے مرد میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کو قتی طور پر ختم کر دیا جاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر دوبارہ یہ صلاحیت بحال کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا آپریشن ہوتا ہے جس کا مردانہ قوت سے کوئی تعلق نہیں یہ آپریشن کرونے سے مرد وقتی طور پر حمل تھہرنے کے خوف سے آذاد ہو جاتا ہے۔ مردانہ جنسی اعضاء اور ان کے افعالمردانہ جنسی اعضا میں عضو تناسل سب سے اہم ہے۔ عضو تناسل کی اندرونی سطح اسٹیج جیسی ہوتی ہے۔ جس میں لچکدار ریشے اور خون کی بے شمار نالیاں ہوتیں ہیں۔ مختلف محرکات کے زیر اثر جب ان شریانوں میں کون بھرتا ہے تو عضو تناسل میں اکڑاہٹپیدا ہو جاتی ہے۔ عضو تناسل کے تین اہم حصے ہیں۔۔جاری ہے۔
۱۔ اگلاحصہ جسے حشقہ یاسپاری کہتے ہیں یہ مرد کے جسم کا سب سے حساس جنسی حصہ ہے۔۲۔ درمیانی حصے کو باڈی کہتے ہیں۔۳۔ آخری حصہ کو جڑ کہتے ہیں۔عضو نتاسل تین اہم کا م سر انجام دیتا ہے۔۱۔ اس کے ذریعے جس سے پیشاب خارج ہوتا ہے۔۲۔ اس کے ذریعے مباشرت کی جاتی ہے۔۳۔ اس کے ذریعے سپرم مرد سے عورت کی اندام نہانی Vagianaمیں داخل کیے جاتے ہیںَمرد کا دوسرا اہم جنسی عضو خصیےTesticlesہیں جن کے ندر دو گولیاں ہوتیں ہیں اور یہ ایک تھیلی میں لپٹی جسم سے باہر لٹکتی ہیں ۔ بایاں خصیہ سائز میں بڑا اور دایاں خصیہ سے زراسا نیچے لٹک رہا ہوتا ہے۔ ان خصیوں میں دو طرح کے سیل ہوتے ہیں۔۱۔ یک قسم کے سیل مردانہ جنسی ہارمون ٹیسٹرو سیٹران بناتے ہیں۔؂۔جاری ہے۔
۔ دوسری قسم کے سیل مردانہ سپرم بناتے ہیں۔پیدائش کے وقت یہ خصیے بچے کے پیٹ میں ہوتے ہیں جو پیدائش کے بعد پیٹ سے خصیہ دان میں اترتے ہیں بعض دفعہ ایک یا دونوں خصیے پیٹ میں رہ جاتے ہیں۔ اگر دونوں پیٹ کے اندر رہ جائیں تو یہ ناکارہ ہو جاتے ہیںَ ۔ جس سے مرد کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحتی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن مرد مباشرت کر سکتا ہے۔ اگرا یک خصیہ اندرہ رہ جائے اور دوسرا باہر ہو تو مرد میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت موجود رہتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ چھوٹے بچوں میں ہاتھ سے ٹٹول کر ان کو محسوس کریں ۔ اگر نہ ہوں تو 2سا ل کی عمر تک آپریشن کروانا ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں