39

علی پور دوار ویمن کریڈٹ یونین ‘‘کے خلاف 50 کروڑ روپے کے بدعنوانی کے معاملے میں ریاستی حکومت پر 50 لاکھ روپے جرمانہ

کلکتہ کلکتہ ہائی کورٹ کے جج ابھیجیت گنگوپادھیائے نے شمالی بنگال کے ’’علی پور دوار ویمن کریڈٹ یونین ‘‘کے خلاف 50 کروڑ روپے کے بدعنوانی کے معاملے میں ریاستی حکومت کو 50 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے جانچ کی ذمہ داری سی آئی ڈی سے لے کر سی بی آئی اور ای ڈی کے ہاتھوں سونپ دی ہے۔سی آئی ڈی گزشتہ تین سالوں سے مالی بدعنوانی کی تحقیقات کر رہی ہے۔تاہم عدالت نے تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور اس کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا-
جمعہ کو کیس کی سماعت کے دوران سی آئی ڈی نے جسٹس گنگوپادھیائے کے ذریعہ سنائے گئے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی۔ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نےعدالت سے درخواست کی کہ جانچ کے اس مرحلے میں ان سے جانچ کی ذمہ داری لینے سے گزشتہ تین سالوں کی محنت ضائع ہوجائے گی ۔لیکن جسٹس گنگوپادھیائے نے سی آئی ڈی کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ سی بی آئی نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ عدالت کے حکم کے باوجود سی آئی ڈی نے اس معاملے میں کوئی دستاویز ان کے حوالے نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد جسٹس گنگوپادھیائے نے حکم دیا کہ تمام دستاویزات 18 ستمبر تک مرکزی تفتیشی ایجنسی کو سونپ دئیے جائیں۔ اگر دستاویزات سی بی آئی کو نہیں سونپے گئے تو داخلہ سکریٹری کو عدالت میں طلب کیا جائے گا۔
جسٹس گنگوپادھیائے نے سماعت کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ، ’’مجھے معلوم ہے کہ کس نے رقم کا غبن کیا ہے‘‘۔ جو لوگ سائیکلوں پر گھومتے تھے، غریبوں کا پیسہ مارنے کے بعد اب گاڑیوں پر سوار ہو رہے ہیں۔ عدالت کے ساتھ کھیلواڑ کررہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ ’’آپ (سی آئی ڈی) نےاتنے سالوں تک اس معاملے میں جانچ کی اور جانچ سے حقائق سامنے نہیں آئے ۔آخر کیوں ۔چوں کہ آپ کی جانچ میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے اس لئے اس معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کیا جارہا ہے۔اگر تین دن میں جانچ سے متعلق تمام دستاویزات سی بی آئی کو نہیں سونپے گئے تو میں داخلہ سکریٹری کو طلب کروں گا۔
جسٹس گنگوپادھیائے نے کہاکہ یہ 50 کروڑ کی بدعنوانی ہے۔ غریب عوام کا پیسہ لوٹا گیا ہے۔ گاؤں کے لوگ سبزی بیچ کر پیسے جمع کرتے تھے۔ دھوکہ دیا گیا ہے۔انہوں نے جانچ ایجنسی ای ڈی سے کہاکہ جو بھی بااثر ہے اسے گرفتار کریں۔ ایسے افراد تحویل میں لے کرپوچھ گچھ کریں ہے۔ جلد از جلد تحقیقات شروع کریں۔
اگست میں کلکتہ ہائی کورٹ کی جلپائی گوڑی سرکٹ بنچ نے مالی فراڈ کے معاملے کی سماعت تھی ۔جس میںمدعی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کمپنی میں کل 50کروڑ روپے کی جمع رقم سرمایہ کاروں کے ذریعہ کی گئی تھی ۔کمپنی نے دعویٰ کیا تھاکہ یہ رقم مارکیٹ میں مختلف لوگوں کو قرض کے طور پر دی جائے گی۔ لیکن جب رقم واپس لینے کا وقت آیا تو سرمایہ کاروںکو بتایا گیا کہ کمپنی د یوالیہ ہوچکی ہے۔ تین سال تک تفتیش کے بعد بھی سی آئی ڈی اس بات کا سراغ نہیں لگا سکی کہ یہ رقم قرض کے طور پر کس کو دی گئی تھی ۔ درخواست گزار نے عدالت سے شکایت کی کہ اگر قرض دیا جاتا تو قرض لینے والوں کے نام ہوتے۔ لیکن سی آئی ڈی کو پچھلے تین سالوں میں کسی کا نام نہیں ملا ہے۔ یعنی پیسہ کسی کو نہیں دیا گیا ہے، روپے ا سمگل کیا گیا ہے۔
جسٹس گنگوپادھیائے نے سی آئی ڈی کی سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ ’’اس مالی گھوٹالے میں بہت بڑا فراڈ کیا گیا ہے۔ سی آئی ڈی تقریباً تین سال کی تحقیقات کے بعد بھی تحقیقات مکمل کرنے میں ناکام رہی ۔اس کے بعد ہی کیس کو سی آئی ڈی سے لے کر جانچ سی بی آئی، ای ڈی کو سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کیٹاگری میں : state

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں