25

ڈاکخانوں کی نجکاری نہیں کی جائے گی: وشنو

نئی دہلی، مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ ڈاک خانوں کی نجکاری نہیں کی جائے گی اور حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پیر کو راجیہ سبھا میں پوسٹ آفس بل 2023 پر بحث کا جواب دیتے ہوئے شری ویشنو نے کہا کہ کچھ اراکین ڈاکخانوں کی نجکاری کا خدشہ ظاہر کیا ہے جو درست نہیں۔ڈاکخانوں کی نجکاری نہیں کی جارہی ہے اور حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے ذریعے پوسٹ آفس کو وسعت دینے اور کئی طرح کی خدمات شروع کرنے کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوسٹ آفس اب بینک بن چکے ہیں۔پوسٹ آفس کے بچت کھاتوں میں 17 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ جمع ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سوکنیا سمردھی یوجنا میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بھی جمع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی حکومت کی مختلف اسکیموں کے فائدے بھی پوسٹ آفس کے ذریعہ ہر گھر تک پہنچائے جارہے ہیں۔کانگریس کے شکتی سنگھ گوہل کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے شری ویشنو نے کہا کہ اب تک کانگریس صرف کام کرتی رہی ہے۔ استعمار کی ذہنیت کے ساتھ اور یہی وجہ ہے کہ کانگریس اب سکڑ رہی ہے۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نتائج کانگریس کے زوال کی واضح علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگریز دور سے پہلے بھی ملک میں پوسٹل سروس کا نظام موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے محکمہ ڈاک میں 1 لاکھ 28 ہزار لوگوں کو روزگار دیا ہے۔کانگریس کے دور حکومت میں 600 سے زائد ڈاکخانے بند ہوئے تھے، وہیں مودی حکومت کے دور میں پانچ ہزار سے زائد نئے ڈاکخانے کھل چکے ہیں اور پانچ ہزار سے زائد ڈاکخانے شروع کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔اس کے بعد ایوان نے منظوری دے دی۔ یہ بل صوتی ووٹ سے پاس ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں