43

ٹیکساس کے اٹارنی جنرل پیکسٹن بدعنوانی کے الزامات سے بری

ٹیکساس امریکہ کی ٹیکساس ریاست کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو مواخذے کی کارروائی کے بعد بدعنوانی کے الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی نے اتوار کو بتایا کہ مسٹر پیکسٹن کے معاملے نے امریکی ریاست پر حکومت کرنے والے ریپبلکنز کو تقسیم کر دیا تھا۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادی مسٹر پیکسٹن مئی میں معطل کیے جانے کے بعد اپنے عہدے پر دوبارہ کام شروع کر سکتے ہیں۔
مسٹر پیکسٹن نے کہا کہ ‘‘کیچڑ اچھالنے والے سیاست دانوں یا ان کے طاقتور سرپرستوں سے سچائی کو نہیں دبایا جا سکتا۔‘‘
انہیں ریاستی سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ میں 16 ووٹوں سے بری کر دیا گیا۔
گزشتہ مئی میں، ٹیکساس کے ایوان نمائندگان میں 60 سے زیادہ ریپبلکن ارکان بدعنوانی، انصاف کی راہ میں رکاوٹ، رشوت ستانی اور عوامی اعتماد کے غلط استعمال کے معاملے میں ریاست کے اعلی وکیل پر مواخذے کی کارروائی چلانے کے لئے غلط سیاست سےبالا ہوکر ایک ساتھ آئے تھے۔لیکن ریاست کی سینیٹ میں جس میں پارٹی کی بالادستی بھی ہے، صرف دو ریپبلکنز نے کسی ب میں انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے ووٹ دیا۔
مسٹر پیکسٹن پر مبینہ طور پر ٹیکساس کے ایک رئیل اسٹیٹ ڈیولپر کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوامی فنڈز کا استعمال کرنے، اپنے ملازمین کو سزا دینے اور ان کے الزامات کو چھپانے، اور ایک خاتون کو فائدہ پہنچانے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ ان کا اس خاتون کے ساتھ غیر ازدواجی تعلق بھی تھا۔
اٹارنی جنرل نے ہمیشہ کسی غلط کام کی تردید کی ہے اور مواخذے کو ’سیاست سے متاثر دکھاوا ‘ قرار دیا ہے۔
مسٹر پیکسٹن ٹیکساس میں مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کے مضبوط حامیوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے سابق صدر کی 2020 کے انتخابی شکست کو چیلنج کرنے کی ناکام کوششوں کی حمایت کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں