36

ملک کی ترقی کے لیے بڑے کینوس پر کام کرنے کی ضرورت ہے: مودی

نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو امرت کال کے اگلے 25 برسوں میں ایک بڑے کینوس پر مل کر کام کرنا ہے اورعوام کی امنگوں کے مطابق پالیسیوں اور پروگراموں کو بہتر بنا کر ملک کی ہمہ جہت ترقی کو تیز کرنا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی ترجیح عوام کی امنگوں پر پورا اترنے والے نئے قوانین بنانا اور فرسودہ قوانین کو ختم کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس وقت دنیا میں سب سے تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے اور تیسری بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ پوری دنیا ہمیں امید سے دیکھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر متوازن ترقی خوشحالی نہیں دے سکتی اس لیے ہمہ جہت ترقی کی جانب اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
مسٹر مودی نے منگل کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں کارروائی شروع ہونے سے پہلے پرانے پارلیمنٹ ہاؤس کے سینٹرل ہال میں منعقدہ دونوں ایوانوں کے خصوصی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، پرانے پارلیمنٹ ہاؤس کا نام ‘سموداھن سدن’ رکھنے کی تجویز پیش کی اور تقریب میں موجود لوک سبھا کے اسپیکراوم برلا اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھر سے بھی اس تجویز پر کارروائی کرنے کی بھی درخواست کی۔
انہوں نے کہا، “آج ہم یہاں سے رخصت ہوکر پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں بیٹھنے والے ہیں اور یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ ہم گنیش چترتھی کے دن وہاں بیٹھ رہے ہیں۔ ہم سب خوش قسمت ہیں کہ آج ہندوستان توقعات کی اس بلندی پر ہے جو شاید پچھلے ایک ہزار برسوں میں بھی نہ تھا۔ ہم یہاں سے اٹھ کر ایک ترقی یافتہ قوم کی تعمیر کے عزم اور یقین کے ساتھ نئے پارلیمنٹ ہاؤس جا رہے ہیں۔ یہ لمحہ جذباتی ہے لیکن فرض کے راستے پر آگے بڑھنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ سمودھان سدن ہمیں ایک سمت دیتا رہے گا اور ہمیں ان عظیم شخصیات کی یاد دلاتا رہے گا جودستور ساز اسمبلی کے ممبر تھے اور جنہوں نے ہمیں ہمارا آئین دیا۔
مسٹرمودی نے کہا، ’’وقت کی ضرورت ہے کہ خود انحصار ہندوستان کے عزم کو پورا کیا جائے، اس میں دَل پارٹیاں آڑے نہیں آتے ہیں اس کے کے لئے صرف دِل چاہیے اور دل صرف ملک کے لئے چاہیے۔ ہمیں ہر ہندوستانی کی امنگوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اصلاحات کرنی ہوں گی۔ فیصلے کرتے وقت عوام کی امنگیں ہماری سوچ میں سب سے آگے ہونی چاہئیں۔ ہمیں امرت کال میں خود کفیل ہندوستان بنانا ہے۔ نئی توقعات کے درمیان یہ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی امنگوں کو پورا کرنے اور فرسودہ قوانین کو منسوخ کرنے کے لیے نئے قوانین بنائے۔
وزیر اعظم نے کہا، “ہندوستان آج ایک ‘وشوا مترا’ کے طورپر ابھر رہا ہے۔ جی 20 چوٹی کانفرنس میں ہندوستان گلوبل ساؤتھ (غریب اور ترقی پذیر ممالک) کی آواز بنا۔ ہندوستان نئی توانائی سے بھرا ہوا ہے۔ ہماری اقتصادی ترقی کی رفتار اچھی ہے۔ پوری دنیا کو یقین ہے کہ ہم جلد ہی دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے والے ہیں اور دنیا امید سے ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ پارلیمنٹ کا سنٹرل ہال ہمیں اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے تحریک دیتا ہے۔ یہ وہی تاریخی مقام ہے جہاں ہمارا آئین تشکیل پایا۔ یہی ایوان ہے جہاں انگریزوں نے اقتدار ہمارے حوالے کیا اور یہیں دستور ساز اسمبلی کے اجلاس ہوتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں