38

مرکز کا خواتین ریزرویشن بل بہار میں خواتین کو دیے گئے ریزرویشن سے متاثر ہے: جے ڈی یو

پٹنہ، جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے مرکز کے خواتین ریزرویشن بل کو بہار میں خواتین کو دیے گئے ریزرویشن سے متاثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ مرکزی حکومت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بہار آج جو کچھ بھی کرے گا، وہی ہوگا۔
جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری راجیو رنجن نے مرکزی حکومت کے خواتین ریزرویشن بل کو بہار میں خواتین کو دیے گئے ریزرویشن سے متاثر قرار دیتے ہوئے ہوئے منگل کو کہا کہ خواتین ریزرویشن بل لا کر مرکزی حکومت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بہار حکومت آج جو کچھ کر رہی ہے، وہ کل پورا ملک کرے گا۔ بھلے ہی مرکز کے لیڈر اپنے سیاسی مفادات کی وجہ سے بہار کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں، لیکن وہ اندر سے یہ بھی جانتے ہیں کہ بہار حکومت نے خواتین کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے جو کام کیا ہے، وہ پورے ملک کے لیے ایک مثال ہے۔ مسٹر رنجن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں بہار کی حکومت ہی تھی جس نے 2005 میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد خواتین کی قائدانہ صلاحیت پر اعتماد ظاہر کیا اور انہیں پنچایت اور میونسپل باڈی کے انتخابات میں 50 فیصد ریزرویشن کا حق دیا۔ سال 2006 ہی دیا تھا۔ اس وقت بہار ملک کی پہلی ریاست تھی، جس نے ایسا قدم اٹھایا تھا۔ تب سے لے کر آج تک بہار حکومت نے خواتین کی تعلیم سے لے کر روزگار تک بہت سے انقلابی اقدامات کئے ہیں جس سے ان کی زندگی بدل گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہار کی خواتین ہر میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔
جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری نے کہا کہ مسٹر نتیش کمار کی وجہ سے ہی بہار ملک کی پہلی ریاست بنی، جہاں خواتین کو سرکاری ملازمتوں میں مضبوط حصہ دینے کے لیے 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔ حکومت نے خواتین کے لیے محکمہ تعلیم کی ملازمتوں میں 50 فیصد ریزرویشن کا بھی انتظام کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری دفاتر میں پوسٹنگ میں خواتین کو 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ریاست میں دو لاکھ سے زیادہ خواتین بطور ٹیچر کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ پولیس میں 29175 خواتین تعینات ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ خواتین پولیس کی یہ تعداد ملک کی کسی بھی دوسری ریاست سے زیادہ ہے۔
مسٹر رنجن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں خواتین کی پیدائش سے لے کر تعلیم تک خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ چیف منسٹر گرل سائیکل اینڈ ڈریس اسکیم لڑکیوں کی تعلیم کے میدان میں گیم چینجر اسکیم ثابت ہوئی ہے ۔ جس کی وجہ سے اسکولوں میں لڑکیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آج اسکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے برابر ہے۔
جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بہار میں انٹرمیڈیٹ پاس کرنے والی غیر شادی شدہ لڑکیوں کو 25 ہزار روپے اور گریجویشن پاس کرنے والی لڑکیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیکل، انجینئرنگ اور مجوزہ اسپورٹس یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کی خواہشمند لڑکیوں کے لیے 33 فیصد نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ ایسا کرنے والی بہار ملک کی پہلی ریاست ہے۔
مسٹر رنجن نے کہا کہ اس کے علاوہ حکومت خواتین کی انٹرپرینیورشپ کو بہتر بنانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کی ویمن انٹرپرینیور اسکیم کے تحت 10 لاکھ روپے تک کی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جس میں سے 5 لاکھ روپے بطور گرانٹ اور باقی 5 لاکھ روپے قرض کے طور پر دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی خواتین کو سماجی طور پر بااختیار بنانے کے لیے چلائی جارہی جیویکا اسکیم کے تحت اب تک کل 10.45 لاکھ سیلف ہیلپ گروپس بنائے گئے ہیں، جب کہ 1 کروڑ 30 لاکھ خاندانوں کی خواتین کو ان گروپوں سے جوڑا گیا ہے۔

کیٹاگری میں : state

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں