58

من کی بات: رمضان کو صبر وتحمل، ہم آہنگی، حساسیت اور عوام کی خدمت کی علامت بنائیں: وزیراعظم مودی

نئی دہلی، (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے لیے صبر و تحمل، ہم آہنگی، حساسیت اور عوام کی خدمت کی علامت بنانے کی اپیل کرتے ہوئے اتوار کے روز کہا کہ کوروناوبا سے بچنے کے لئے لوگوں کو مقامی انتظامیہ کی ہدایات اور باہمی سماجی دوری پر عمل کرنا چاہئے۔ مسٹر مودی نے ریڈیو پر اپنے ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ کے دوسرے ایڈیشن کی 11 ویں قسط میں اہل وطن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ كورونا وبا کا قہر دنیا کے سامنے ہے تو اس موقع پر رمضان کو صبر و تحمل، خیر سگالی، حساسیت اور خدمت کے جذبے کی علامت بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جب پچھلی بار رمضان منایا گیا تھا تو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس بار رمضان میں اتنی بڑی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا’’اس بار ہم، پہلے سے زیادہ عبادت کریں تاکہ عید آنے سے پہلے دنیا کوروناسے آزاد ہو جائے اور ہم پہلے کی طرح امنگ اور حوصلہ جوش و جذبے کے ساتھ عید منائیں۔ مجھے یقین ہے کہ رمضان کے ان دنوں میں مقامی انتظامیہ کے ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کوروناکے خلاف چل رہی اس جنگ کو ہم مزید مضبوط کریں گے۔ سڑکوں پر، بازاروں میں، محلوں میں، جسمانی فاصلے کے ضابطوں پر عمل اب بہت ضروری ہے۔
وزیر اعظم نے دو گز فاصلے اور گھر سے باہر نہ نکلنے کے لئے بیدار کر رہے سبھی برادریوں رہنماؤں کے تئیں بھی اظہار تشکریہ کیا اور کہا کہ کورونانے ہندوستان سمیت، دنیا بھر میں تہواروں کو منانے کی صورت تبدیل کر دی ہے۔ اب پچھلے دنوں بہو، بیساکھی، پُتھنڈو، ویشو، اوڑیا نئے سال جیسے تہوار آئے۔ لوگوں نے ان تہواروں کو گھر میں رہ کر، اور بڑی سادگی کے ساتھ اور معاشرے کے خیر خواہ کے طور پر تہوار منایا۔ انہوں نے کہا ’’عام طور پر، لوگ ان تہواروں کو ان کے دوستوں اور خاندانوں کے ساتھ پورے جوش و جذبے اور امنگ کے ساتھ مناتے تھے۔ گھر کے باہر نکل کر اپنی خوشی مشترک کرتے تھے۔ لیکن اس وقت، ہر کسی نے تحمل برتا۔ لاک ڈاؤن کے قوانین پر عمل کیا۔ اس بار عیسائی دوستوں نے ’ایسٹر‘ بھی گھر پر ہی منایا ہے۔ اپنے معاشرے، اپنے ملک کے تئیں یہ ذمہ داری نبھانا آج کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ تبھی ہم کوروناکے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہوں گے۔ کوروناجیسی عالمی وبا کو شکست دیں پائیں گے‘‘۔

لاک ڈاؤن میں پولیس اہلکاروں کی خدمت کے جذبے سے لوگوں کی سوچ میں تبدیلی: مودی

نئی دہلی، (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بات پر خوشی ظاہر کی ہے کہ کورونا وبا روکنے کے لئے لاگو لاک ڈاؤن کے دوران ملک میں پولیس اہلکاروں نے جس جذبہ خدمت کا ثبوت دیا ہے، اس سے پولیس کے تئیں لوگوں کی سوچ میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ مسٹر مودی نے ریڈیواے پر نشر اپنے ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ میں اتوار کو کہا کہ یہ بڑی تبدیلی سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا ”لاک ڈاؤن کے دوران، لوگ اپنے ان ساتھیوں کو نہ صرف یاد کر رہے ہیں بلکہ ان کی ضروریات کا بھی خیال رکھ رہے ہیں اور ان کے بارے میں، بہت احترام سے لکھ بھی رہے ہیں۔ملک کے ہر کونے سے ایسی تصاویر آ رہی ہیں کہ لوگ صفائی اہلکاروں پر پھولوں کی بارش کر رہے ہیں۔ پہلے، ان کے کام پر ممکنہ طور پر آپ بھی توجہ نہیں دیتے تھے۔ڈاکٹر ہوں، صفائی اہلکار ہوں، دیگر سروس کرنے والے لوگ ہوں۔ اتنا ہی نہیں، ہمارے پولیس نظام کو لے کر بھی عام لوگوں کی سوچ میں کافی تبدیلی آئی ہے“۔ پولیس کے تئیں لوگوں میں آئے جذبے کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ”پہلے پولیس کے بارے میں سوچتے ہی منفی کے سوا، ہمیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ ہمارے پولیس اہلکار آج غریبوں، ضرورت مندوں کو کھانا پہنچا رہے ہیں، دوائیپہنچا رہے ہیں. جس طرح ہر مدد کے لئے پولیس سامنے آ رہی ہے اس سے ان کا انسانی اور حساس رویہ ہمارے سامنے ابھر کر آیا ہے اور اس نے ہمارے ذہنوں کو جھنجھوڑ دیا ہے، ہمارے دل کو چھو لیا ہے“۔
مسٹر مودی نے کہا کہ کورونا وبا کے خلاف جنگ کی وجہ سے ہمیں زندگی، معاشرے اور آس پاس ہو نے والے واقعات کو نئے نظریہ سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ معاشرے کے نظریہ میں وسیع تبدیلی آئی ہے اور زندگی سے منسلک ہر شخص کی اہمیت کا ہمیں احساس ہو رہا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے میں آئی بہت بڑی تبدیلی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ تبدیلی چاروں طرف دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا ”ہمارے گھروں میں کام کرنے والے لوگ ہوں، ہماری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کام کرنے والے ہمارے عام کارکن ہوں، پڑوس کی دکانوں میں کام کرنے والے لوگ ہوں، ان سب کی کتنا بڑا کردار ہے، ہمیں اس کا تجربہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسی طرح، ضروری خدمات کی ڈیلیوری کرنے والے لوگ، منڈیوں میں کام کرنے والے ہمارے مزدور بھائی بہن، ہمارے آس پڑوس کے آٹو ڈرائیور، رکشہ ڈرائیور آج ہم تجربہ کر رہے ہیں کہ ان سب کے بغیر ہماری زندگی کتنی مشکل ہو سکتی ہے“۔

اکشے ترتیہ پر لوگ ماحولیاتی تحفظ کا عہد کریں: مودی
نئی دہلی، (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے اکشے ترتیہ تہوار پر ماحولیاتی تحفظ کا عزم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اتوار کو کہا کہ کووڈ -19 وبا کے اس بحران کے اس دور میں چھوٹا سا عطیہ کرنے کی کوشش آس پاس کے بہت سے لوگوں کے لئے بہت بڑا سمبل بن سکتا ہے۔ مسٹر مودی نے ریڈیو پر اپنے ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ کے دوسرے حصے کی 11 ویں کڑی میں ہم وطنوں سے خطاب کرتے ہے کہا کہ اکشے ترتیہ تہوار کا اس سال خاص اہمیت ہے۔ اس موقع پر لوگوں کو اپنے ماحول، جنگل، دریا اور پورے ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے بارے میں سوچنا چاہئے۔یہ انسانی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”اگر ہم ’اکشے ‘ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے اس بات کا یقین کرنا ضروری ہے کہ ہماری زمین‘اکشے‘ قا(بل تجدید) رہے۔“ انہوں نے کہا کہ ’کشے‘ کا مطلب تباہی ہوتا ہے لیکن جو کبھی تباہ نہیں ہو، جو کبھی ختم نہیں ہو وہ ’اکشے‘ ہے۔کورونا وبا کے مشکل وقت میں یہ ایک ایسا دن ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ روح اورجذبہ،’اکشے‘ ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ چاہے کتنی بھی مشکلات راستہ روک دیں، چاہے کتنی بھی آفات آئیں، چاہے کتنی بھی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑے۔ ان سے لڑنے اور نبرد آزما ہونے کی انسانی جذبہ اکشے ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، “آج کچھ نیا شروع کرنے کا دن ہے، تو، ایسے میں کیا ہم سب مل کر، آپ کی کوششوں سے، اپنی سرزمین کواکشے اور محفوظ بنانے کا عہد لے سکتے ہیں؟“

عوامی مقامات پر تھوکنے کی عادت چھوڑنی ہوگی:مودی
نئی دہلی، (یواین آئی) وزیراعظم نریندرمودی نے کورونا کی وبا سے بچاؤ کےلئے ماسک اور گمچھا پہننے پر زور دیتے ہوئے اتوار کو کہا کہ لوگوں کو عوامی مقامات پر تھوکنے کی عادت چھوڑنی ہوگی۔ مسٹرمودی نے آکاش وانی پر اپنے ماہانی پروگرام ’من کی بات ‘کے دوسرے ایڈیشن کی گیارہویں کڑی میں ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مقام پر تھوکنا ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ صاف صفائی اور صحت کےلئے سنجیدہ چیلنج دے رہا ہے۔لوگوں میں اب اس برائی کے تئیں بیداری آرہ ہے اور عوامی مقامات پر تھوکنے کی بری عادت کو چھوڑنا ہوگا۔ انہوں نے کہا،’’سماج میں ایک اور بڑی بیداری یہ آئی ہے اب سبھی لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ عوامی مقامات پر تھوکنے کے کیا نقصان ہوسکتے ہیں۔یہاں وہاں ،کہیں بھی تھوکنا،غلب عادتوں کا حصہ بنا ہوا تھا۔یہ صاف صفائی اور صحت کو شدید چیلنج بھی دیتا تھا۔‘‘انہوں نے کہا کہ لوگ اس مسئلے کو جانتے ہیں لیکن یہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا،’’اب وقت آگیا ہے کہ اس بری عادت کو،ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم کردیا جائے۔دیر بھلے ہی ہوگئی ہو،لیکن اب یہ تھوکنے کی عادت چھوڑ دینی چاہئے۔یہ باتیں جہاں بنیادی صاف صفائی کی سطح بڑھائیں گی،وہیں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں بھی مدد کریں گی۔‘‘ وزیراعظم نے کہا کہ کوویڈ -19 کی وجہ سے کئی مثبت تبدیلی آئی ہیں۔یہ کام کرنے کے طریقے ،زندگی جینے کے طریقے اور عادتوں میں بھی قدرتی طور پر جگہ بنا رہے ہیں۔ماسک پہننا اور اپنے چہرے کو ڈھک کر رکھنے کی عادت میں شامل ہورہا ہے۔انہوں نے کہا ،’’ماسک کے سلسلے یہ نظریہ اب بدلنے والا ہی ہے۔ماسک اب مہذب سماج کی علامت بن جائےگا۔اگر،بیماری سے خود کو بچانا ہےاور دوسروں کو بھی بچانا ہے تو آپ کو ماسک لگانا پڑےگا اور میرا تو آسان مشورہ رہتا ہے -گمچھا ،منہ ڈھکنا ہے۔‘‘

مودی نے طیارہ، ٹرین اور ڈاک سروس کی تعریف کی
نئی دہلی، (یو این آئی) کووڈ 19وبا کے قہر سے نپٹنے میں صحت، طیارہ، ٹرین اور ڈاک سروس کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ ملک میں نئی تبدیلی کی شروعات ہورہی ہے۔ مسٹر مودی نے آکاشوانی پر اپنے ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ کے دوسرے حصہ کی گیارہویں قسط میں کہا کہ کورونا وبا نے نئے حالات کو جنم دیا ہے اور ملک کے شہریوں میں ایک نئے عزم کی طاقت نظر آرہی ہے۔ ملک میں ایک بدلاو کی شروعات ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مشکل حالات، ہر لڑائی، کچھ نہ کچھ سبق دیتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ سکھا کر جاتے ہیں۔ کچھ امکانات کے راستے بناتے ہیں اور کچھ نئی منزلوں کی سمت بھی دیتے ہیں۔ اس حالت میں آپ تمام اہل وطن نے جس عزم کی طاقت کا مظاہرہ کیا اس سے ہندستان میں ایک نئی تبدیلی کی شروعات بھی ہوئی ہے۔ انہو ں نے کہاکہ ہیلتھ سروسز سے وابستہ لوگوں نے اس آرڈی ننس پر اطمینان ظاہر کیا ہے جس میں کورونا سے لڑنے والوں کے ساتھ تشدد، اسحتصال اور انہیں کسی طرح سے چوٹ پہنچانے والوں کے خلاف نہایت سخت سزا کا التزام کیا گیا ہے۔ ہمارے ڈاکڑ، نرس، نیم طبی عملہ اور کمیونٹی ہیلتھ ملازم اور ایسے تمام لوگ جو ملک کو ’کورونا‘ سے پاک بنانے میں دن رات مصروف عمل ہیں ان کی حفاظت کرنے کیلئے یہ قدم بہت ضروری تھا۔ وزیراعظم مودی نے کہاکہ کاروباری تنظیم، کاوربار، دفاتر، تعلیمی ادارے اور صحت شعبہ تکنیکی طورپر تبدیلی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تکنیک کے محاذ پر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ملک کا ہر شخص نئے حالات کے مطابق کچھ نہ کچھ نیا تیار کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کا ہر ایک محکمہ اور ادارہ راحت کے لئے مل جل کر مکمل رفتار کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ طیارہ خدمات اور ریلوے کے ملازم دن رات محنت کررہے ہیں۔ دواوں کو پہنچانے کے لئے لائف لائن پرواز نام سے ایک خصوصی مہم چل رہی ہے۔ بہت کم وقت میں ملک کے اندر ہی تین لاکھ کلومیٹر کی ہوائی پرواز ہوئی اور 500 ٹن سے زیادہ طبی اشیا ملک کے کو کونے کونے میں آپ تک پہنچائی گئیں۔ ہندستانی ریلوے تقریباًً 60سے زیادہ ریل روٹ پر 100سے بھی زیادہ مال گاڑیاں چلا رہا ہے۔ اسی طرح دواوں کی سپلائی میں ہمارے ڈاک محکہ کے لوگ بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ مسٹر مودی نے کہاکہ وزیراعظم غریب فلاح و بہبود پیکج کے تحت غریبوں کے بینک اکاونٹوں میں پیسے سیدھے بھیجے جارہے ہیں، بززگی پنشن جاری کی گئی ہے، غریبوں کو تین مہینے کے مفت گیس سلنڈر، راشن جیسی سہولیات بھی دی جارہی ہیں۔ حکومت کے مختلف محکموں اور بینکنگ سیکٹر کے لوگ ایک ٹیم کی طرح دن رات کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومتیں اس وبا سے نپٹنے میں بہت سرگرم کردار ادا کررہی ہیں۔

آیوروید کو سائنٹفک طورپر مستند بنانا ہوگا: مودی
نئی دہلی، (یوا ین ائی) وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کی قدیم طبی نظام آیوروید کو سائنسی اعتبار سے مستند بنانے پر زور دیتے ہوئے اتوار کو کہا کہ ہندستان نے اپنی ثقافت کے مطابق ہی کورونا وبا کے اس عالمی بحران میں دنیا کے ہر ضرورت مند ملک کو دوائیں مہیا کرائی ہیں۔ مسٹر مودی نے آکاشوانی پر اپنے ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ کے دوسرے حصے کی گیارہویں قسط میں اہل وطن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان نے اپنے اقدار اور سوچ کے مطابق غیرممالک کو دوا بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ بحران کے اس وقت میں دنیا کے لئے بھی، خوشحال ممالک کے لئے بھی دواوں کا بحران بہت زیادہ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے کہ اگر ہندستان دنیا کو دوائیں نہ بھی دیتا تو کوئی ہندستان کو قصوروار نہیں مانتا۔ ہر ملک سمجھ رہا ہے کہ ہندستان کی ترجیح بھی اپنے شہریوں کی زندگی بچانا ہے لیکن ہندستان نے فطرت اور منفی سوچ سے بالاتر ہوکر فیصلہ کیا۔ہندستان نے اپنے کلچر کے مطابق فیصلہ کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ اسی طرح اس وقت پوری دنیا میں ہندستان کے آیوروید اور یوگ کی اہمیت کو بھی لوگ مخصوص انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ ہر طرف مدافعتی صلاحیت بڑھانے کے لئے ہندستان کے آیوروید اور یوگ کی بات ہورہی ہے۔ کورونا کے نظریہ سے آیوش وزارت نے مدافعتی نظام بڑھانے کے لئے مشورے دیئے ہیں۔ گر م پانی، کاڑا اور دیگر رہنما ہدایات سے بہت فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ویسے یہ بد قسمتی رہی ہے کہ کئی بار ہم اپنی طاقتوں اور خوشحال روایت کو پہچاننے سے انکار کردیتے ہیں لیکن جب دنیا کا کوئی دوسرا ملک ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر وہی بات کرتا ہے، ہمارا ہی ہنر ہمیں سکھاتا ہے تو ہم اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ سینکڑوں برس کی غلامی کا سیاہ دور رہا ہے۔ اس وجہ سے کبھی کبھی اپنی ہی طاقت پر یقین نہیں ہوتا ہے۔ خوداعتماد ی کم نظر آتی ہے۔ اس لئے ہم اپنے ملک کی اچھی باتوں کو، ہمارے روایتی اصولوں کو شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی بجائے انہیں چھوڑ دیتے ہیں اسے کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہندستان کی نوجوان نسل کو اس چیلنج کو قبول کرنا ہوگا۔ دنیا نے جس طرح سے یوگ کو خوشی کے ساتھ قبول کیا ہے ویسے ہی ہزاروں برسوں پرانے آیوروید کو بھی دنیا ضرور قبول کرے گی۔ اس کے لئے نوجوان نسل کو عہد کرنا ہوگا اور دنیا جس زبان میں سمجھتی ہے اسی سائنٹفک زبان میں سمجھانا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہندستان نے اپنی طبی ضروریات کے لئے کوشش کی اور پوری دنیا سے آرہی انسانیت کی حفاظت کی پکار پر بھی توجہ دی۔ دنیا کے ہر ضرورت مند تک دوائیں پہنچانے کا بیڑا اٹھایا گیا اور انسانیت کے اس کام کو کرکے دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ جب میری دنیا کے دیگر سربراہان سے فون پر بات چیت ہوتی ہے تو وہ ہندستان کے عوام کا ضرور شکریہ ادا کرتے ہیں۔جب وہ لوگ کہتے ہیں ’شکریہ ہندستان، شکریہ ہندستانیوں‘ تو ملک کا فخر مزید بڑھ جاتا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ پر زور دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ فطرت اور ثقافت کے جذبہ میں ایک نیا دروازہ کھلتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں