39

ماہِ رمضان المبارک: ربِ کریم کے انعامات کی برسات

رمضان المبارک اُمّتِ مسلمہ کے لیے ربّ ِ تعالیٰ کا وہ احسان ہے کہ جس پر جتنا شُکر ادا کیا جائے کم ہے۔یہ نیکیوں کا موسمِ بہار اور گناہ بخشوانے کا خصوصی انعام ہے۔ رسول اللہﷺ اِس مہمان کی آمد کا خصوصی انتظار فرماتے اور دو ماہ قبل یعنی رجب ہی سے یہ دُعا فرماتے کہ اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں ماہِ رمضان نصیب فرما۔‘‘ نیز، استقبالِ رمضان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپﷺ رمضان المبارک کی تیاری کے لیے شعبان کے اکثر حصّے کے روزے رکھا کرتے تھے۔آپﷺ آمدِ رمضان سے قبل صحابہ کرامؓ کے سامنے ایک خطبہ ارشاد فرماتے۔ حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہﷺ نے شعبان کے آخری دن ہمیں ایک (خصوصی) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا’’ اے لوگو! ایک عظیم مہینہ تم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ (یہ) مبارک مہینہ ہے، اس میں ایک رات (ایسی ہے جو) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ میں روزے رکھنا فرض قرار دیا ہے اور اس کی راتوں میں (نمازِ تراویح کی صُورت میں) قیام کو نفلی عبادت قرار دیا ہے، جو اس مہینے میں اللہ کی رضا کے لیے کوئی نفلی عبادت انجام دے گا، تو اُسے دوسرے مہینوں کے(اسی نوع کے) فرض کے برابر اجر ملے گا اور جو اس مہینے میں کوئی فرض عبادت ادا کرے گا، تو اسے دوسرے مہینوں کے(اسی نوع کے) ستّر فرائض کے برابر اجر ملے گا۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنّت ہے۔
یہ دوسروں سے ہم دردی اور ان کے دُکھ درد کے ازالے کا مہینہ ہے۔ یہ ایسا (مبارک) مہینہ ہے کہ اس میں مومن کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروائے گا، تو یہ اس کے لیے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بنے گا اور اس کے سبب اس کی گردن نارِ جہنّم سے آزاد ہوگی اور روزہ دار کے اجر میں کسی کمی کے بغیر اُسے اُس کے برابر اجر ملے گا۔‘‘ ہم نے عرض کیا’’ یارسول اللہﷺ! ہم میں سے ہر کوئی اتنی توفیق نہیں رکھتا کہ روزہ افطار کرائے، (تو کیا ایسے لوگ افطار کے اجر سے محروم رہیں گے؟)‘‘آپﷺ نے فرمایا’’ یہ اجر اُسے بھی ملے گا، جو دودھ کے ایک گھونٹ سے یا ایک کھجور سے یا پانی پلاکر ہی کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروائے اور جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کِھلائے گا، تو اللہ تعالیٰ اُسے(قیامت کے دن) میرے حوضِ (کوثر) سے ایسا جام پلائے گا کہ(پھر) وہ جنّت میں داخل ہونے تک پیاسا نہیں ہوگا۔ یہ ایسا (مقدّس) مہینہ ہے کہ اس کا پہلا عشرہ نزولِ رحمت کا سبب ہے اور اس کا درمیانی عشرہ مغفرت کے لیے ہے اور اس کا آخری عشرہ نارِ جہنّم سے نجات کے لیے ہے اور جو شخص اس مہینے میں اپنے ماتحت لوگوں(یعنی خدّام اور ملازمین) کے کام میں تخفیف کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اُسے بخش دے گا اور نارِجہنّم سے رہائی عطا فرمادے گا‘‘(شعب الایمان للبیہقی)۔

٭ اہمیت وفضیلت:

اللہ تعالیٰ نے اِس ماہِ مبارک میں کتابِ لاریب نازل فرمائی، جب کہ اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلوں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس توقّع سے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔‘‘سنن ابنِ ماجہ کی ایک روایت میں اللہ کے رسولﷺ فرماتے ہیں’’جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے، تو سرکش جن اور شیاطین قید کردیے جاتے ہیں، جنّت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں کہ پھر کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور جہنّم کے تمام دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور پھر کسی دروازے کو کھولا نہیں جاتا۔ منادی کہتا ہے’’ اے خیر کے طالب! ذرا آگے بڑھ اور اے شر کے پھیلانے والے اب تُو بس کر‘‘ اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو جہنّم سے آزاد کرتا ہے اور یہ معاملہ ہر روز چلتا رہتا ہے‘‘ اسی طرح اس ماہِ مبارک میں اللہ تعالیٰ روزانہ جنّت کو سنوارتا اور مزیّن فرماتا ہے، پھر جنّت سے خطاب کرکے کہتا ہے’’ میرے نیک بندے اس ماہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر اور مجھے راضی کرکے تیرے پاس آئیں گے۔‘‘ رمضان کی آخری رات روزے داروں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ اگر اُنہوں نے صحیح معنوں میں روزے رکھ کر ان کے تقاضوں کو پورا کیا ہوگا۔ فرشتے، جب تک روزہ دار روزہ افطار نہیں کرلیتے، اُن کے حق میں رحمت ومغفرت کی دُعائیں کرتے رہتے ہیں۔ روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ کے ہاں مشک کی خُوش بُو سے زیادہ پاکیزہ اور خوش گوار ہے۔‘‘

٭ صحابہؓ و اسلافؒ کا استقبالِ رمضان:

صحابہ کرامؓ اور سلف صالحینؒ کی حیاتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رمضان المبارک کا غیرمعمولی انداز میں استقبال کیا کرتے تھے۔یہ عظیم ہستیاں ’’اللہ کے اِس مہمان‘‘ کی آمد پر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوکر اعمالِ صالحہ میں جُت جاتیں اور اس انداز میں ماہِ صیام گزارتیں کہ گویا یہ ان کی زندگی کا آخری رمضان ہو۔ حضرت انسؓ ماہِ شعبان میں صحابہ کرامؓ کے معمولات کے بارے میں فرماتے ہیں’’وہ شعبان کے شروع ہوتے ہی قرآن کی طرف جُھک پڑتے، اپنے اَموال کی زکوٰۃ نکالتے تاکہ غریب، مسکین لوگ روزے اور ماہِ رمضان بہتر طور پر گزار سکیں‘‘ (لطائف المعارف)۔

٭آمدِ رمضان اور کرنے کے کام:

اپنے بزرگوں کے برعکس ہم رمضان کی آمد پر ذرّہ بھر فکر مند نہیں ہوتے۔کئی لوگ تو اِس حوالے سے اتنے بے فکر واقع ہوئے ہیں کہ ان کے سال کے باقی مہینوں اور رمضان المبارک میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا۔

٭ فرائض کا اہتمام:

ہم عام دنوں میں نماز جیسی اہم عبادت میں غفلت سے لے کر چھوٹی چھوٹی نیکیوں تک کے معاملے میں خاصی لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ ہم پر گرفت نہیں فرماتے اور پھر ہمیں رمضان جیسا بابرکت مہینہ عطا فرمادیتے ہیں۔ذرا سوچیے تو سہی! گزشتہ رمضان میں کتنے ہی ایسے لوگ تھے، جو ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھے، سحرو افطار میں ہمارے ساتھ ہوا کرتے تھے، مگر آج وہ منوں مٹّی تلے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جو ہمیں ایک بار پھر بخشش کا مہینہ میّسر آیا ہے۔اب سُستی اور غفلت کی چادر دُور پھینک کر فرائض وواجبات کی ادائیگی میں لگ جانا چاہیے۔ اگر نمازیں قضا ہوچُکی ہوں، تو ابھی سے ایک ترتیب کے ساتھ قضا نمازوں کی ادائیگی شروع کردیں۔

٭حقوق العباد کی ادائیگی:

حقیقت یہ ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ یہ جہاں ربّ ِ تعالیٰ کو ناراض کر بیٹھتا ہے، وہیں اپنے بھائی بندوں سے بھی دوری اختیار کرلیتا ہے۔ اُس سے حقوق العباد کی ادائی میں بارہا کمی پیشی ہوجاتی ہے۔اگر ہم پر کسی کے حقوق ہیں، تو اِس ماہ میں اُن کی ادائی کا ضرور اہتمام کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی سے کوئی ناراضی ہے، تو صلح صفائی کا راستہ اختیار کر کے نہ صرف ڈھیروں ثواب، بلکہ روحانی سکون بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنا دل صاف کرلیں، اس میں کسی قسم کا کینہ نہ رکھیں۔ صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺسے پوچھا’’دل کے صاف ہونے سے کیا مُراد ہے؟‘‘ تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا’’ وہ متقّی اور صاف ستھرا دل، جس میں نہ گناہ ہو نہ بغاوت، نہ ہی اُس میں کسی کا کینہ ہو اور نہ کسی کے بارے میں حسد‘‘ (سنن ابنِ ماجہ)۔ یاد رہے، اِس ماہِ مبارک میں ایک ایسی رات آتی ہے، جس میں عبادت ہزار مہینوں سے بہتر ہے، لیکن احادیثِ مبارکہؐ کےمطابق اگر کسی شخص نے کسی کا حق مارا ہو یا اُس کے دل میں کینہ و بغض ہو، تو اُس کی اس رات کی جانے والی عبادات اور توبہ استغفار قبول نہیں ہوتی۔آج کل سیاسی اور مذہبی بحث مباحثے کچھ زیادہ ہی ہوگئے ہیں، جس کے باعث کئی بار لڑائی جھگڑے اور تعلقات کے خاتمے تک نوبت پہنچ جاتی ہے، تو ماہِ مقدّس میں ایسی تمام ناراضیاں ختم کردینی چاہئیں۔

٭ روزے سے متعلق مسائل سیکھیں!

ہر مسلمان کے لیے دین کی بنیادی تعلیمات جاننا واجب ہے مگر چوں کہ رمضان سال بعد آتا ہے، تو روزے سے متعلق بہت سے احکامات ومسائل ذہن سے نکل جاتے ہیں۔ لہٰذا کم ازکم بنیادی مسائل ضرور سیکھ لیں تاکہ دن بھر بھوکا پیاسا رہ کر کی جانے والی عبادت کسی غلطی یا لاعلمی کی وجہ سے ضائع نہ ہوجائے۔ یہ مہینہ یوں بھی اہم ہے کہ اس میں مالی حقوق جیسے زکوٰۃ اور صدقہ الفطر وغیرہ کی ادائیگی بھی کی جاتی ہے، لہٰذا ان سے متعلق بھی بنیادی شرعی معلومات کا ہونا ضروری ہے۔

٭تلاوت اور تلاوت:

ماہِ صیام کو’’ ماہِ قرآن‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ترجمہ ’’رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے سراپا ہدایت ہے اور ایسی روشنیوں کا حامل ہے، جو صحیح راستہ دِکھاتی ہیں اور حق وباطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردیتی ہیں۔‘‘ رسول اللہﷺ ہر رمضان المبارک میں قرآنِ کریم کا ایک دَور فرماتے تھے اور زندگی کے آخری رمضان میں دو مرتبہ قرآنِ کریم کا دور فرمایا۔نیز، اس ماہ کی اہم عبادت تراویح بھی ہے، جو قرآنِ کریم کی تلاوت ہی سے وابستہ ہے۔ اس ماہ میں قیام اللیل اور تروایح کے بہت فضائل ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عُمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص دس آیات کے ساتھ قیام اللیل کرے گا، وہ غافل نہیں لکھا جائے گا۔ جو ایک سو آیات کے ساتھ قیام کرے گا، وہ قانتین (عبادت گزاروں میں) لکھا جائے گا اور جو ایک ہزار آیات کے ساتھ قیام کرے گا، وہ مقنطرین(بے انتہا ثواب جمع کرنے والوں) میں لکھا جائے گا۔‘‘ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص ایمان کے ساتھ اور اپنے آپ کا محاسبہ کرتے ہوئے رمضان میں قیام کرے، اُس کے سابقہ تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔‘‘

٭خواتین کا رمضان :

رسول اکرمﷺ کے لائے ہوئے دین کی تعلیمات صرف مَردوں ہی کے لیے نہیں ہیں، بلکہ عورتیں بھی ان امور وفرائض میں برابر کی شریک ہیں۔ نماز ہو، حج وعمرہ ہو کہ روزہ، ہر ایک کے حکم میں خواتین برابر کی شامل ہیں۔ جہاں تک رمضان کا تعلق ہے، تو اس میں خاتونِ خانہ کے کام مزید بڑھ جاتے ہیں۔ ویسے بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت ہی گھر کی محافظ ہوتی ہے اور رمضان میں بالخصوص اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے، کیوں کہ ماہِ صیام میں جہاں اُنھیں دیگر عبادات میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینا ہوتا ہے، وہیں گھر والوں کے لیے سحر وافطار کا دسترخوان بھی وقت پر سجانا ہوتا ہے۔ اسی لیے خواتین کوماہِ رمضان سے زیادہ سے زیادہ فوائد اُٹھانے کے لیے بہت غور وفکر سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں،تو جب کبھی خواتین کے حوالے سے رمضان کی تیاری کی بات کی جاتی ہے، تو دھیان کھانے، پینے یعنی سحر وافطار کی تیاری کی طرف ہی جاتا ہے۔ حالاں کہ کھانا پینا تو سال بھر لگا رہتا ہے، تو اگر رمضان المبارک میں بھی عام معمول کی طرح محض کچن ہی کی طرف توجّہ رہی، تو یہ بہت خسارے کی بات ہوگی۔

٭نظام الاوقات ترتیب دیں:

کوئی بھی اہم کام نظم وضبط کے بغیر سَرانجام نہیں دیا جاسکتا۔ جب اللہ تعالیٰ اپنا خصوصی فضل فرماتے ہوئے ہمیں اس مبارک مہینے کے باسعادت لمحات سے نواز رہے ہیں، تو ہمیں بھی چاہیے کہ اس نعمت سے اپنے دامن کو خُوب بھرلیں۔تاہم، اِس مقصد کے حصول کے لیے سب سے اہم چیز نظام الاوقات بنانا ہے، جس سے عبادات کی ادائیگی میں آسانی ہو۔ کم اہم کاموں کو موقوف کرکے عبادات کو زیادہ وقت دیا جاسکتا ہے۔ نمازِ تہجد، تلاوتِ قرآن، ذکر اذکار اور دیگر عبادات کی باقاعدہ ترتیب بناکر اس پر عمل کیا جائے، تواس سے رمضان کا لطف بھی محسوس ہوگا اور ربّ کی رضا بھی حاصل ہوگی۔

٭روزے کی رُوح:

ویسے تو عام دنوں میں بھی گناہ کے کاموں اور فضولیات میں پڑنے سے گریز کرنا چاہیے، مگر رمضان المبارک میں تو اس کا خصوصی اہتمام کیا جانا ضروری ہے کہ اس کے بغیر روزے کی روح حاصل نہیں ہوسکتی۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص نے جھوٹ بولنا، جھوٹ پر عمل کرنا اور فریب کاری کو نہ چھوڑا، تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا ، پینا چھوڑ دے۔‘‘(صحیح بخاری ) حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’ روزہ جہنّم سے ایک ڈھال ہے، لہٰذا روزہ دار کو چاہیے کہ وہ نہ تو فحش کلامی کرے اور نہ ہی جاہلوں جیسا کام کرے۔ اگر کوئی شخص اُس سے لڑے یا اُسے گالی دے، تو اُس کو دو مرتبہ کہہ دے کہ’’ مَیں روزے سے ہوں۔‘‘ ایک اور حدیثِ مبارکہؐ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا’’ کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں کہ جنہیں اپنی اس عبادت سے رات کو نیند سے محرومی کے سِوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ آج کا نوجوان سوشل میڈیا کا غیرمعمولی حد تک عادی ہوچُکا ہے۔ سارا سارا دن بے جا بحث مباحثے میں قیمتی وقت برباد کیا جاتا ہے، کم ازکم رمضان میں ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ اس ماہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اپنے ربّ کے حوالے کردیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں