37

محرم میں منعقد کی جانے والی مجالس عزا اور محافل ماتم کا اہتمام کر نے کے لیے اجازت دی جائے ، حسین دلوائی کا مطالبہ

ممبئی کورونا وائرس کی وباء نے گزشتہ چھ ماہ سےدنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر انسانوں کو مختلف پابندیوں میں جکڑ رکھا ہے، اس دوران نہ صرف تجارتی، معاشی اور صنعتی سرگرمیاں بڑی حد تک ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں، بلکہ مذہبی رسومات اور عبادتوں کی اجتماعی ادایئگی پر بھی مکمل طور پر قدغن لگا ہوا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں میں باالعموم اور بھارتی مسلمانوں میں باالخصوص، یہی پابندی باعث تشویش اور اضطراب کا باعث بنی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں بھی اجتماعی عبادتوں اور مذہبی تقریبات کے انعقاد پر لگائی گئی پابندیوں کے خلاف بے چینی پائی جا رہی اور اس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی کے پیش نظر، احتیاطی تدابیر کو برقرار رکھتے ہوئے مذہبی رسومات و عبادات کی اجتماعی ادیئگی کے لیے مساجد و دیگر عبادت گاہوں کو کھولنے کا مطالبہ زور پکڑ رہاہے۔ مسلمانوں کے قائدین اور مختلف تنظیمں نمایاں طور پر اس سلسلے میں کوشاں ہیں کہ حکومت اس ضمن میں مثبت اقدامات اٹھائے۔
کورونا وائرس کے باعث ریاست میں مسلمانوں کو مذہبی اُمور کی ادایئگی میں پیش آ رہی دشواریوں کے ضمن میں سابق رکن پارلیمنٹ و نائب صدر گانگریس پارٹی حسین دلوائی نے یو این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتیاطی تدابیر اور جسمانی محفوظ فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے عبادات اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے لاگو حکم امتناع کے دوران مسلمانوں نے تمام احکامات پر خندہ پیشانی سے عمل کیا۔ ماہ رمضان المبارک کی نمازیں اور عبادات نیز عید کی نمازیں بھی گھروں پر ہی ادا کیں۔ اور اس دوران اپنے کسی بھی عمل سے حکومت کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا۔ مسلمانوں کے اس قابل ستائش عمل کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، تاہم اسی کے ساتھ حکومت کو اس بات پر سنجیدگی سے غؤر کرنا چاہیے کہ جلد از جلد مذہبی عبادت گاہوں کو کھول کر احتیاطی تدابیر اور جسمانی محفوظ فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اجتماعی عبادت کی اجازت دی جائے۔ تاکہ اس ضمن میں عوام کو ہو رہی پریشانیوں کا خاتمہ ہو۔
حسین دلوائی نے اس موقع پر یہ بھی مطالبہ کہ اہل تشیع کی جانب سے ماہ محرم میں منعقد کی جانے والی مجالس عزا اور محافل ماتم کا اہتمام کر نے کے لیے اجازت دی جائے۔ اس ضمن میں انھوں نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور وزیز داخلہ انیل دیشمکھ سے گفتگوکر کے یہ مطالبہ کیا اور بتایا کہ ماہ محرم الحرام قمری سال کا پہلا مہینہ ہے ، اور شریعت مطہرہ نے اس ماہ کو حرمت و احترام والا مہینہ کہا ہے، اس لئے جہاں مسلمانانِ عالم اس مبارک مہینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمودات کے مطابق روزہ و صدقات کا اہتمام کرتے ہیں، تو وہیں اہل تشیع شیعہ حضرات اس ماہ میں مجالس عزا اور محافل ماتم کا اہتمام کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا اور امام حسین (ع) اور آپ کے اصحاب و انصار کی شہادت بھی اسی مہینے میں ہوئی ہے۔ امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد، اہل تشیع کے لئے یہ مہینہ عزاداری کا مہینہ ہے اور اہل تشیع ہر سال محرم کے مہینے میں سوگواری اور غم مناتے ہیں۔
حسین دلوائی نے بتایا کہ نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور وزیز داخلہ انیل دیشمکھ ان کے اس مطالبہ پر مثبت غور کر نے یقین دلایاہے۔ اور جسمانی محفوظ فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے نیز دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس بات کی اجازت ملنےکی اُمید ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں