53

مہیش بھٹ 75 سال کے ہو گئے

ممبئی، بالی ووڈ کے معروف فلم ساز مہیش بھٹ آج 75 برس کے ہو گئے۔
مہیش بھٹ 20 ستمبر 1948 کو ممبئی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نانا بھائی بھٹ فلم انڈسٹری کے ایک مشہور فلم ساز تھے۔ گھر میں فلمی ماحول کی وجہ سے وہ بھی فلموں کی طرف مائل ہو گئے اور ڈائریکٹر بننے کے خواب دیکھنے لگے۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے پروڈیوسر ڈائریکٹر راج کھوسلہ کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔مہیش بھٹ نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز سال 1970 میں ایک دستاویزی فلم ’سنکٹ‘سے کیا۔ اس کے بعد بطور ہدایت کار انہوں نے ’منزلیں اور بھی ہیں‘،’وشواش گھاٹ‘، ’لہو کے دو رنگ‘، ’نیا دور‘ اور’ابھیمنیو‘جیسی کئی فلمیں ڈائریکٹ کی لیکن ان فلموں سے انہیں زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔
سال 1982 میں مہیش بھٹ کو فلم ’ارتھ‘ کی ہدایت کاری کا موقع ملا۔ اس فلم میں سمتا پاٹل، شبانہ اعظمی اور کلبھوشن کھربندا نے مرکزی کردار ادا کیاتھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس فلم کے ذریعے مہیش بھٹ نے اداکارہ پروین بابی کے ساتھ اپنے تعلقات کو دکھایاتھا۔ فلم ٹکٹ کھڑکی پر سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ سال 1984 میں ریلیز ہونے والی فلم ’سارانش‘مہیش بھٹ کی ہدایت کاری میں بننے والی سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں انوپم کھیر اور روہنی ہتھگڑی اور سونی رازدان نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ مہیش بھٹ کو فلم میں بہترین اسکرین پلے پر ماسکو فلم فیسٹیول میں ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
سال 1986 میں ریلیز ہونے والی فلم ’نام‘ مہیش بھٹ کی ہدایت کاری میں بننے والی اہم فلموں میں شمار کیاجاتا ہے۔ راجندر کمار کی پروڈیوس کردہ اس فلم میں سنجے دت اور کمار گورو نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ یوں تو اس فلم کے تقریباً سبھی گانے سپرہٹ ثابت ہوئے لیکن پنکج ادھاس کی مخملی آواز میں گانا ’چٹھی آئی ہے وطن سے چٹھی آئی ہے‘ آج بھی سننے والوں کی آنکھوں میں آنسو لے آتا ہے۔ 1986 سے لے کر 1989 تک کا دور مہیش بھٹ کے سنے کریئر کا براوقت ثابت ہوا۔ اس دوران ان کی ’آج‘، ’کاش‘، ’ٹھکانہ‘،’قبضہ‘ جیسی فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن ٹکٹ کھڑکی پر ان تمام فلموں کو بری طرح مسترد کردیا گیا۔ سال 1989 میں مہیش بھٹ نے اپنے بھائی مکیش بھٹ کے ساتھ بھی فلم پروڈکشن کے میدان میں قدم رکھا اور وشیش فلمز کے بینر تلے ’ڈیڈی’‘بنائی۔

سال 1991 میں ہی مہیش بھٹ کی ایک اور سپر ہٹ فلم ’دل ہے کی مانتا نہیں‘ریلیز ہوئی۔ عامر خان اور پوجا بھٹ مرکزی کردار ادا کرنے والی اس فلم کی کہانی ہالی ووڈ فلم ’اٹ ہیپنڈ ون نائٹ‘پر مبنی تھی۔ فلم میں پوجا بھٹ اور عامر خان نے اپنے چلبلا انداز سے شائقین کا دل جیت لیا اور فلم کو سپرہٹ کر دیا۔ سال 1993 میں مہیش بھٹ کو ایک بار پھر اداکار عامر خان کے ساتھ فلم ’ہم ہیں راہی پیار کے‘ میں کام کرنے کا موقع ملا جو ان کے سینی کیرئیر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں عامر خان اور جوہی چاولہ کی جوڑی کو شائقین نے بے حد پسند کیا۔
سال 1995 میں مہیش بھٹ نے بھی چھوٹے پردے کی طرف رخ کیا اور شوبھا ڈے کی کہانی ’سوابھیمان‘کی ہدایت کاری کی۔ یہ سیریل سامعین میں بہت مقبول ہوا۔ سال 1998 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘
’تمنا‘کا شمار مہیش بھٹ کی ہدایت کاری میں بننے والی اہم فلموں میں ہوتا ہے۔ سال 1998 میں مہیش بھٹ کی ایک اور سپر ہٹ فلم ’زخم‘ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے ذریعے مہیش بھٹ نے ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں ہونے والے فسادات میں ایک خاندان کے سانحہ کو سلور اسکرین پر پیش کیا تھا۔ اجے دیوگن کو فلم میں بہترین اداکاری پر بہترین اداکار کا قومی ایوارڈ دیا گیا، وہیں مہیش بھٹ کو بہترین کہانی کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔
سال 1999 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کارتوس‘کی ٹکٹکھڑکی پر ناکامی کے بعد مہیش بھٹ نے فلم ڈائریکشن کے شعبے سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔حالانکہ انہوں نے فلموں کے لیے کہانیاں اور اسکرین پلے لکھنا جاری رکھا۔مہیش بھٹ کو ان کے فلمی کیریئر میں تین بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے اپنے چار دہائیوں کے طویل سنیما کیریئرمیں تقریباً 50 فلموں کی ہدایت کاری کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں