17

لاک ڈاؤن میں بھولے بسرے نغمہ نگاروں کی تاریخ پر کتاب

نئی دہلی،کیا آپ جانتے ہیں کہ ملک میں 1933 ایک ایسی بولتی فلم ہندی فلم ’’کرما‘‘ بنائی گئی تھی، جس میں ایک گانا انگریزی میں بھی تھا۔ فلم کے پروڈیوسر ہمانشو رائے تھے اور ان کی ہیروئن ان کی اہلیہ دیویکا رانی تھیں، جنہوں نے اپنی آواز میں ایک گانا گایا تھا۔
فلموں میں پلے بیک سنگنگ کی شروعات 1935 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’دھوپ چھاؤں‘‘ سے ہوئی تھی اور اسے پنڈت سدرشن نے عکس بند کیا تھا۔
اس فلم کی موسیقی اس دور کے دو مشہور موسیقار رائے چندر بورال اور پنکج ملک نے ترتیب دی تھی۔
ہندی فلموں کے پہلے آزاد نغمہ نگار دیناناتھ مدھوک تھے، جبکہ دیگر مشہور نغمہ نگار سمپت لال سریواستو عرف انج، پیارے سنتوشی لال، رمیش گپتا، پنڈت اندرا سرسوتی کمار ’’دیپک‘‘ منشی عباس علی، آرزو لکھنوی، تنویر نقوی، پنڈت مدھر گجانن جاگیردار جیسی شخصیات تھے۔ جنھیں لوگ آج جانتے تک نہیں یا ان کے نام لوگوں کے ذہنوں سے مٹ چکے ہیں۔
نغمہ نگار پردیپ نے بھی فلموں میں گانے گائے۔ منشی پریم چند نے فلم شیردل عورت اور نوجوان کے لئے مکالمے بھی لکھے تھے۔ نوجوان پہلی فلم تھی جس میں کوئی گانا نہیں تھا۔
ہندی سنیما کے ابتدائی دور میں، تلسی داس کبیر داس، سورداس، میرا اور رے داس کی اصطلاحات بطور نغمہ استعمال ہوتی تھیں۔
شاعر جے شنکر پرساد اور سمیترانند پنت کے گیت بھی فلموں میں استعمال کیے گئے تھے اور نامور مصنف امرت لال ناگر نے بھی فلموں کے لئے گیت لکھے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں