21

خاندانوں کو جوڑتے ہوئے قصہ گوئی کی روایت:مودی

نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کہانی،روایتیں اورقصہ گوئی کی رسم خاندانوں کو جوڑتی ہیں اس لئے اسے مسلسل جاری رہنے کی ضرورت ہے۔
مسٹر مودی نے ریڈیو پر نشر اپنے ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ میں خاندانوں میں کہانی سنانے کے رواج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو کورونا بحران کے دوران جب دو گز کی دوری ضرورت بن گئی ہے اور تو اسی بحران کے دوران قصہ گوئی کی ہماری روایت نے خاندان کے اراکین کو آپس میں جوڑنے اور قریب لانے کاکام بھی کیا ہے۔
فیملی میں ایک ساتھ لمبے عرصے تک مل کر کیسے رہنا ہے اور ہر لمحے خوشی میں کیسے گذارنا ہے اس کی کمی کہیں کہیں محسوس ہوتی ہے لیکن بحران کی اس گھڑی میں ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی بزرگ، خاندان کے بڑے بزرگ کہانیاں سنایا کرتے تھے اور گھر میں نیا جوش اور نئی توانائی بھر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران ہمیں ضرور احساس ہوا ہوگا کہ ہمارے آباء واجداد نے خاندان میں کہانیاں سنانے اور قصہ گوئی کی جو اصول بنائے تھے وہ آج بھی اہم ہے۔ خاندان میں کہانی سنانے کے اس فن کی ہمارے یہاں اتنی ہی قدیم روایت ہے جتنی پرانی انسانی تہذیب ہے۔
مسٹرمودی نے کہا کہ کہانیاں لوگوں کی تخلیقی صلاحیت اور حساس پہلو کو سامنے لاتی ہیں اور اسے ظاہر کرتی ہیں۔ اس کی طاقت اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب کوئی ماں اپنےچھوٹے بچے کو سلانے کے لئے یا اسے کھانا کھلانے کے لئے کہانی سنارہی ہوتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ اب بچوں کی کہاںیوں میں دلچسپی کم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنے زندگی میں بہت طویل عرصے تک ایک خاندان کے طورپر رہا۔ گھومنا ہی میری زندگی تھی۔ ہر دن نیا گاؤں، نئے لوگ، نئے خاندان لیکن جب میں خاندانوں میں جاتا تھا تو میں بچوں سے ضرور باتیں کرتا تھا اور کبھی کبھی بچوں کوکہتا تھا کہ چلو بھائی مجھے کوئی کہانی سناؤ، تو میں حیران ہوتا جب بچے کہتے تھے نہیں انکل کہانی نہیں ہم لطیفہ سنائیں گے، مجھے بھی وہ یہی کہتے تھے کہ انکل آپ ہمیں لطیفہ سناؤ یعنی ان کو کہانی سے کوئی واقفیت ہی نہیں تھی۔ زیادہ تر ان کی زندگی لطیفوں پر مشتمل تھی۔‘‘
مسٹر مودی نے کہا کہ ’’ہندوستان میں کہانیاں سنانے یا قصہ گوئی کی ایک اہم روایت رہی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارا تعلق اس ملک سے جہاں پنچ تنتر کی روایت رہی ہے جہاں کہانیوں میں جانوروں اور چڑیوں اورپریوں کی تصوراتی دنیا تخلیق کی گئی ہے تاکہ ذہانت اور دانش مندی کی باتوں کو آسانی سے سمجھایاجاسکے۔ ہمارے یہاں کہانیوں کی روایت رہی ہے۔ یہ مذہبی کہانیاں کہنے کی قدیم روایت ہے۔ اس میں ’کٹاکالیکشیوم‘ بھی شامل رہی۔
انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں طرح طرح کی لوک کہانیاں ہیں۔ تمل ناڈو اورکیرلہ میں کہانی سنانے کی بہت ہی دلچسپ روایت ہے۔ اسے ’ولوپاٹ‘ کہاجاتا ہے۔ اس میں کہانی اور موسیقی کا بہت ہی دلچسپ آمیزش ہوتی ہے۔ ہندوستان میں کٹھ پتلی کی روایت بھی رہی ہے۔ ان دنوں سائنس اور سائنس سے جڑی کہانیاں کی صنف مقبول ہورہی ہے۔ کئی لوگ قصہ گوئی کے فن کو آگے بڑھانے کے لئے قابل تعریف کام کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں