10

عظیم اتحاد کا منشور جاری، 10 لاکھ نوکری، کنٹریکٹ سسٹم ختم کرنے اور کسانوں کا قرض معاف کرنے کاوعدہ

پٹنہ، راشٹریہ جنتا دل(آر جے ڈی)کے زیرقیادت عظیم اتحاد نے آج اپنا انتخابی منشور’’پرن ہمارا سنکلپ بدلاو کا‘‘جاری کرتے ہوئے 10 لاکھ نوجوانوں کو مستقل ملازمت، اساتذہ کو مساوی کام کے بدلے مساوی تنخواہ دینے، کٹریکٹ سسٹم ختم کرنے اور کسانوں کا قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
عظیم اتحاد کی جانب سے وزیراعلیٰ کےامیدوار تیجسوی یادو نے کانگریس کے سینئر لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا اور بہار کے انچارج شکتی سنگھ گوہل، ریاستی صدر مدن موہن جھا،یندوستانی کمیونسٹ پارٹی مارکسیٹ لیننسٹ(سی پی آئی-ایم ایل)کی ششی یادو، مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی ( سی پی آئی -ایم) کے ارون سنہااور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے رام بابو کمار کے ساتھ پریس کانفرنس میں انتخابی منشور’’پرن ہمارا سنکلپ بدلاو کا‘‘جاری کرتے ہوئے نتیش حکومت کو ہرمحاذ پر ناکام بتایا اور کہا کہ حکومت روزگار، غریبی، بھکمری اور ہجرت پر بات نہیں کرنا چاہتی ہے۔گزشتہ 15 سال سے مسٹر نتیش کمار ریاست کے وزیراعلیٰ ہیں، لیکن آج تک بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ نہیں دلا سکے۔انہوں نے کہا بہار سے ہجرت کو روکنا عظیم اتحاد کا عزم ہے۔عظیم اتحادکی حکومت بنتے ہی پہلی کابینہ کی میٹنگ میں دس لاکھ بے روزگاروں کو نوکری دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
مسٹر یادو نے کہا کہ امتحان کے لیے بھرے جانے والے درخواست فارم مفت ہوں گے اور امتحانی مراکز تک جانے کا کرایہ بھی حکومت اداکرے گی۔اس کے ساتھ ہی کنٹریکٹ پر ہونے والی بحالی کو ختم کرکے مستقل نوکری دینے، اساتذہ کو مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ دینے، جیوکا دیدیوں کا اعزاز دوگنا کرنے، منریگا کی طرز پر روزگاراسکیم کا آغاز کرنے، منریگا کے تحت ہر خاندان کے بجائے ہرشخص کو کام کا التزام، کم از کم اجرت کی گارنٹی اور کام کے دن کو 100 سے بڑھا کر 200 کیے جانے، پہلے اسمبلی اجلاس میں مرکز کے زراعت سے متعلق تینوں بلوں کے اثر سے بہار کے کسانوں کو آزادی دلانے اور کسانوں کا قرض معاف کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔اعلان نامہ میں کووڈ-19 کے سبب دیگر ریاست میں پھنسے تارکین وطن مزدوروں کی حالت کو ذہن میں رکھ کر وعدہ کیا گیا ہے کہ حکومت کی تشکیل پر ملک کی ہرریاست میں کرپوری شرمویر تعاون مرکز تعمیرہوں گے، جہاں کسی بھی تباہی اور ضرورت کے وقت شرمویرمہاجر مزدور اور ان کے خاندان کو حکومت بہار سے مدد مل سکے گی۔
اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے 10 لاکھ نوجوانوں کو مستقل نوکری دینے کے ان کے وعدے کے بارے میں کہا کہ ان سے پوچھا جارہا ہے کہ دس لاکھ ملازمتیں کیسے دیں گے۔وہ بتادینا چاہتے ہیں کہ بہار میں ساڑھے چارلاکھ سرکاری عہدے خالی ہیں۔منی پور جیسی چھوٹی ریاست میں ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ہزار پولیس اہلکار ہیں، بہار میں صرف 77 پولیس اہلکارہیں۔ان کی حکومت آئی تو یہ صورت حال تبدیل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بہار کے عوام میں روزگار چھینے جانے کے سلسلے میں حکومت کے خلاف کافی غصہ ہے۔
مسٹر یادو نے کہا کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار اب تھک چکے ہیں اورشکست تسلیم کرچکے ہیں۔اس لیے وہ کہتے ہیں کہ یہاں سمندرنہیں ہے اس لیے کل کارخانہ نہیں لگا سکتے لیکن اسی بہار میں مروڈھا، پرسہ، مدھیپورا میں کارخانہ لگا کہ نہیں۔آج بہار میں چینی مل، جوٹ مل یا پیپر مل سب بند ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہار میں مکئی، لیچی، گنے کیلے وغیرہ کی بھرپور پیداوار ہوتی ہے لیکن ایک فوڈ پروسیسنگ یونٹ نہیں ہے۔مزید کہا کہ ان کی حکوت بنی تو ان سب پر توجہ دی جائے گی۔
کانگریس کے قومی ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ بہار اسمبلی کا یہ الیکشن، نئی سمت بمقابلہ حالت زار کا الیکشن ہے۔یہ الیکشن، نیا راستہ نیا آسمان بمقابلہ ہندومسلمان کا الیکشن ہے۔یہ نئے تیز بمقابلہ فیل تجربے کی دہائی کا انتخاب ہے، یہ خودداری اور ترقی بمقابلہ تقسیم اور نفرت کا الیکشن ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس بار تین’اتحاد‘کے ساتھ انتخابی میدان میں اتری ہے۔پہلا اتحاد بی جے پی-ایل جے پی، دوسرا بی جے پی-اویسی اور تیسرا بی جے پی-جے ڈی یو کا ہے لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود اقتدار پر قبضہ کرنے کا اس کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔
مسٹر سرجے والا نے جالے اسمبلی حلقہ سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین صدر کے سابق صدر مشکور احمد عثمانی کو کانگریس کا امیدواربنائے جانے کے سوال پر کہا کہ بی جے پی اس معاملہ میں بلا وجہ تنازعہ پیداکرنے کی کوشش کررہی ہے۔انہوں نے بی جے پی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ،’’جناح کی مزار پر بی جے پی کے اس وقت کے صدر نے پیشانی ٹیکا تھا اور انہیں لالوپرساد نے گرفتارکیا تھا۔دعوت اڑائی مودی اور سوال ہم سے پوچھا جائے۔مسعود اظہر کو وہ چھڑائیں اور سوال ہم سے پوچھا جائے۔داودابراہیم کی اہلیہ کو ممبئی آنے کی اجازت وہ دیں اور سوال ہم سے پوچھا جائے۔انہوں نے کہا کہ بہار کی پشت پر نتیش اور مودی نے وارکیا ہے۔بہارخوددار ہے، وار برداشت نہیں کرے گا۔
سی پی آئی ایم ایل کی ششی یادو نے کہا کہ مسٹر لالو پرسادیادو احتجاج کرنےوالوں کی سنتے تھے، لیکن آج بہار کے وزیراعلیٰ کسی کی نہیں سنتے۔بہار میں عظیم اتحاد کی حکومت بنے گی توغریبوں کو اجاڑانہیں جائے گا، بلکہ انہیں آباد کیا جائے گا۔ہاتھرس جیسا واقعہ بہار میں نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہاں بچیوں کے ہوسٹل اسکینڈل کا ملزم وزیراعلیٰ کے ساتھ عزت کے ساتھ بیٹھتا ہے۔سی پی ایم کے ارون کمار مشرا نے کہا کہ سیکولرازم پربڑاخطرہ ہے۔احتجاج کرنے والوں کو جیل بھیجا جارہا ہے۔سی پی آئی کے رام بابو کمار نے کہا کہ مسٹر نتیش کمار نے فرقہ وارانہ بی جے پی کے لیے بہار میں زمین تیار کی ہے۔

کیٹاگری میں : States

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں