14

جموں و کشمیر میں ‘یوم الحاق’ کی تقریبات، بی جے پی کا سری نگر میں جشن اور ترنگا ریلی

سری نگر / جموں، جموں و کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پیر کے روز ‘یوم الحاق’ کے موقع پر کئی تقریبات کا اہتمام کیا جن میں پارٹی کے لیڈران اور کارکنوں نے شرکت کی۔
روایت کے برخلاف سری نگر میں اس دن کے موقع پر پہلی بار ایک ترنگا بردار کار ریلی نکالی گئی اور پارٹی کے بعض کارکنوں نے کچھ گانوں کی دھن پر رقص بھی کیا۔ تاہم بریانی کی تقسیم کے دوران کورونا گائیڈ لائنز کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا۔
جموں و کشمیر کے آخری ڈوگرہ شاہی حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے سال 1947 میں اسی دن بھارتی یونین کے ساتھ الحاق کیا تھا۔
تاہم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے سال گذشتہ ماہ دسمبر میں جموں و کشمیر کے سرکاری تعطیلات کی فہرست میں سے 5 دسمبر، جو نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کے جنم دن ہے، کی سرکاری تعطیل اور 13 جولائی کو یوم شہادت کی تعطیل کو منسوخ کیا اور پہلی بار 26 اکتوبر یعنی یوم الحاق کے موقع پر سرکاری تعطیل رکھی۔
اگرچہ پیر کو ‘یوم الحاق’ کی تعطیل کی وجہ سے تمام سرکاری ادارے بند رہے تاہم وادی میں لوگوں کی اکثریت اس دن کو لے کر لاتعلق نظر آئی۔
بی جے پی کی جانب سے سری نگر میں واقع ٹائیگور ہال میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا جس میں پارٹی کے جموں و کشمیر یونٹ کے نائب صدر صوفی یوسف، ترجمان الطاف ٹھاکر کے علاوہ درجنوں کارکنوں نے شرکت کی۔
تقریب کے حاشیے پر پارٹی ترجمان الطاف ٹھاکر نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ‘ہم یہ دن اس لئے مناتے ہیں کہ ہم خوش قسمت لوگ ہیں کہ ہم نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ الحاق کیا ہے اور ہم اس ملک کے شہری ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں جو بار بار ترنگے کو نشانہ بناتے ہیں کہ آپ لوگ ترنگا نہیں اٹھاؤ گے تو یہاں لاکھوں لوگ اس کو اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔
موصوف نے کہا کہ جو لوگ اس دن کو یوم سیاہ مناتے ہیں وہ پاکستان کے حواری ہیں لیکن ہم اس دن کو خوشی کے دن کے بطور منائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جن نوجوانوں نے آج لالچوک میں گھنٹہ گھر پر ترنگا لہرانے کی کوشش کی وہ پاکستان کے حامیوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
ٹھاکر نے کہا کہ کشمیریوں نے سال گذشتہ کے پانچ اگست کے بعد ہڑتالی سیاست کو رد کیا ہے اور حریت کو بھی رد کیا ہے اور ہڑتال کال دینے والے بھی کہیں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب یہاں کوئی ہڑتال ہوگی نہ سنگ بازی اور 27 اکتوبر کو بھی کوئی ہڑتال نہیں ہوگی۔
تقریب کے بعد بی جے پی کارکنوں نے سخت سیکورٹی بندوبست کے بیچ ٹائیگور ہال سے ایک ‘ترنگا کار ریلی’ نکالی جو جھیل ڈل کے کناروں پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں اختتام پذیر ہوئی۔
ریلی کے شرکاء نے ‘بھارت ماتا کی جے، آزاد ہندوستان زندہ باد، مقبول شیروانی زندہ باد، محبوبہ مفتی ہائے ہائے، دیش کے غداروں کو جیل بھرو جیل بھرو’ جیسے نعرے لگائے۔
یہ ریلی سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی گپکار روڈ پر واقع رہائش گاہوں کے قریب سے گذری۔
انتطامیہ نے تقریب اور ریلی کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے۔
تاہم ایس کے آئی سی سی میں جب ریلی اختتام پذیر ہوئی تو وہاں کارکنوں نے بریانی حاصل کرنے کے لئے نہ صرف کورونا گائیڈ لائنز کو بالائے طاق رکھا بلکہ ان کے درمیان دھکم دھکا بھی ہوئی۔
جموں میں بی جے پی کی طرف سے یوم الحاق کے سلسلے میں مہاراجہ ہری سنگھ پارک میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر شرکا نے مہاراجہ ہری سنگھ کو خراج عقیدت پیش کیا۔
تقریب کو خطاب کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا نے کہا کہ بی جے پی نے ملک کے ایک جھنڈے کے خواب کو پورا کیا جس پر آج ملک کے تمام لوگ خوش ہیں۔
ادھر یوم الحاق کے موقع پر جموں کے گاندھی نگر میں واقع پی ڈی پی کے دفتر پر ترنگا لہرایا گیا۔ یہ اس دفتر پر قومی پرچم لہرائے جانے والا تیسرا واقعہ ہے۔
جموں میں اس موقع پر جموں و کشمیر کے جھنڈے کو بھی نذر آتش کیا گیا۔
ایک احتجاجی نے کہا کہ ہم نے اس جھنڈے کو نذر آتش کیا جو ایک سال پہلے ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک میں ایک ہی جھنڈا رہے گا۔
دریں اثنا وادی کشمیر میں عام لوگ یوم الحاق کے حوالے سے لاتعلق دیکھے گئے۔
لوگوں کو اس حوالے سے ہو رہی سرگرمیوں سے لاتعلق اپنے کاموں کے ساتھ ہی مصروف دیکھا گیا اور نہ ہی اس سلسلے میں لوگوں کو بات چیت کرتے ہوئے کہیں دیکھا گیا۔

کیٹاگری میں : States

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں