29

ترنگا کو لےکر دیئےگئے بیان سےمصیبت میں محبوبہ مفتی، 3 لیڈروں نے پی ڈی پی سے دیا استعفیٰ

سری نگر: پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کے لیڈر ٹی ایس باجوا، وید مہاجن اور حسین اے وفا نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ لیڈروں نے استعفیٰ دینے کی وجہ محبوبہ مفتی کے ذریعہ کہی گئی باتوں سے پیدا ہوئی نااتفاقی کو بتایا ہے۔ ان لیڈروں نے محبوبہ مفتی کو لکھے ایک خط میں کہا ہے کہ وہ محبوبہ مفتی کے کچھ کاموں اور ناپسندیدہ بیانات سے خاص طور پر بے چینی محسوس کر تے ہیں، جو حب الوطنی کے جذبے کو چوٹ پہنچاتے ہیں۔
واضح رہےکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کو کہا تھا کہ جب تک جموں وکشمیر کو لے کرگزشتہ سال پانچ اگست کو آئین میں کی گئی تبدیلی کو واپس نہیں لے لیا جاتا، جب تک انہیں الیکشن لڑنے اور ترنگا تھامنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جموں وکشمیرکو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے دفعہ 370 کے بیشتر التزامات کو گزشتہ سال اگست میں ختم کئے جانے کے بعد سے محبوبہ مفتی حراست میں تھیں۔ رہا ہونے کے بعد پہلی بار میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ وہ تبھی ترنگا اٹھائیں گی، جب جموں وکشمیر کا سابقہ پرچم اور آئین بحال کیا جائے گا۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا، ’جہاں تک میری بات ہے، تو مجھے الیکشن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جب تک وہ آئین ہمیں واپس نہیں مل جاتا، جس کے تحت میں الیکشن لڑتی تھی، محبوبہ مفتی کو الیکشن سےکوئی لینا دینا نہیں ہے’۔
محبوبہ مفتی کے اس بیان کو بی جے پی نے ملک مخالف قرار دیا تھا اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ وہیں کانگریس نے بھی محبوبہ مفتی کے بیان کو اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا تھا۔ محبوبہ مفتی کے بیان کے بعد نوجوانوں کے ایک گروپ نے جموں واقع پارٹی دفتر کے باہر مارچ نکالا اور دفتر پر قومی پرچم لہرانے کی کوشش کی۔ اتوار کو جموں میں اے بی وی پی کارکنان نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کے بعد کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

کیٹاگری میں : States

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں