18

زرعی اصلاحالات قوانین کی واپسی تک تحریک جاری رہے گی

نئی دہلی، آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈی نیشن کمیٹی نے زرعی اصلاحالات قوانین واپس لئے جانے تک تحریک جاری رکھنے کا پیر کو اعلان کیا۔
کوآرڈی نیشن کمیٹی کے لیڈر یوگیندر یادو اور گرنام سنگھ نے یہاں پریس کانفرنس میں کہاکہ کسی شرط کے ساتھ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کسان تحریک پر پورے ملک میں برم پھیلایا گیا جس کا اب انکشاف ہوگیا ہے۔
کسان لیڈروں نے کہاکہ پہلے یہ کہا گیا کہ زرعی اصلاحات قوانین کی بچولئے مخالفت کررہے ہیں جبکہ یہ مکمل طورپر غلط ثابت ہوگیا ہے۔ کسانوں کو ورغلائے جانے کی بات کہی گئی جبکہ بچے بچے کو زرعی اصلاحات قوانین کی معلومات ہے۔
مسٹر یادو نے کہا کہ پہلے یہ کہا گیا کہ یہ تحریک صرف پنجاب کے کسانوں کی ہے جبکہ اس میں پورے ملک کے کسان شامل ہیں۔ یہ ملک کی تحریک ہے۔ کسانوں کی قیادت پر بھی برم پھیلانے کی کوشش کی گئی جبکہ اس میں رہنما موجود ہیں۔
مسٹر یادو نے کہاکہ زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لئے جانے تک تحریک جاری رہے گی اور یہ اپنی تاریخی اہمیت ثابت کرے گی۔ کسان لیڈر گرنام سنگھ نے کہا کہ کسان جہاں ہیں وہیں ڈٹے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسان اپنے دل کی بات کہنے آئے ہیں۔ انکی بات سنی جانی چاہئے نہیں تو یہ بہت مہنگا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ کسان آرپار کی لڑائی لڑرہے ہیں۔
اس درمیان وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے وزیر داخلہ امت شاہ سے بات چیت کی۔ سمجھا جاتا ہے کہ کسانوں کی تحریک پر دونوں ہی لیڈروں کے مابین بات چیت ہوئی ہے۔ اس کی تفصیلات حاصل نہیں ہوسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں