50 انعام یافتہ نکسلیوں نے اجتماعی خودسپردگی کی۔
بیجاپور: چھتیس گڑھ کے بیجاپور ضلع میں اتوار کو 50 نکسلیوں نے جن کے سر پر 68 لاکھ روپے کا انعام تھا نے اجتماعی طور پر ہتھیار ڈال دیے اور ماؤنواز تنظیم کو شدید دھچکا پہنچا۔
نکسلیوں نے بیجاپور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جتیندر یادو کے سامنے خودسپردگی کی۔ ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں نکسلائیٹس کے ہتھیار ڈالنے سے ماؤنواز تنظیم کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
ہتھیار ڈالنے والوں میں بہت سے مطلوب نکسلائٹ بھی شامل تھے۔
ہتھیار ڈالنے والے نکسلیوں پر کل 68 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ انہوں نے ایس پی، ڈی آئی جی اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے حکام کے سامنے ہتھیار ڈال کر مرکزی دھارے میں واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ انتظامیہ نے اسے نکسل ازم کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
اس پر ریاستی وزیر داخلہ وجے شرما نے کہا کہ یہ سرنڈر حکومت کی موثر پالیسی اور سیکورٹی فورسز کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ ہم نکسل سے متاثرہ علاقوں میں امن اور ترقی لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ تمام ہتھیار ڈالنے والے نکسلیوں کو حکومت کی باز آبادکاری پالیسی کے تحت مدد دی جائے گی۔